اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی شہری کا42 ڈرائیونگ لائسنس بنے ہونے کا انکشاف

datetime 26  ستمبر‬‮  2024 |
ڈرائیونگ لائسنس کی فیس
ڈرائیونگ لائسنس کی فیس

تاندلیانوالہ ( این این آئی)پاکستان میں ایک ایسا شخص سامنے آیا ہے جس کے 42 لائسنس بنے ہیں۔مذکورہ شخص کا تعلق فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ سے ہے جن کا نام نذیر احمد بشیر ہے۔اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب نذیر احمد اپنے بیٹے کا لائسنس بنوانے مقامی لائسنسگ برانچ گئے۔ لائسنسگ برانچ تاندلیانوالہ کے انچارج محمد عثمان طور نے بتایا کہ نذیر احمد اپنے بیٹے کا لائسنس بنوانے کے لیے آئے تھے مگر انہوں نے پورے محکمے کو حیرت میں ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب ان کے بیٹے کی تفصیلات درج کر رہے تھے تو ان سے کہا کہ ہاتھ کے ہاتھ آپ بھی اپنا لائسنس بنوا لیں تو انہوں نے موبائل فون پر اپنے ڈرائیونگ لائسنس کی تصویریں دکھانا شروع کر دیں۔محمد عثمان نے بتایا کہ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیوں کہ ہم خود لائسنس برانچ میں کام کرتے ہیں لیکن آج تک ہم نے خود یا کسی اور نے اتنی بڑی تعداد میں ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوائے۔عثمان طور کے مطابق تاندلیانوالہ کے رہائشی نذیر احمد کے نام پر مختلف گاڑیوں کے مجموعی طور پر 42 لائسنس ہیں۔نذیر احمد کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ بیرونِ ملک اور بالخصوص خلیجی ممالک میں گزارا، جہاں انہوں نے مختلف بڑی گاڑیاں چلائیں جس کے لیے ہر گاڑی کے لیے نیا لائسنس بنوانا پڑتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 42 لائسنس بنوانا ان کا شوق نہیں تھا بلکہ ضرورت کے تحت انہوں نے یہ تمام لائسنس بنوائے۔نذیر احمد نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق 1992ء میں انہوں نے اپنا پہلا لائسنس بنوایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…