منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سیاست میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت دی جائے تو اپنی شکست پر اعتراض نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

datetime 20  اگست‬‮  2024 |

ڈیرہ اسماعیل خان (این این آئی)سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر ہمیں سیاست میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت دے دی جائے تو ہمیں اپنی شکست پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔اپنی رہائشگاہ میں تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام کسی سیاسی اتحاد کے بغیر اپنی تحریک خود چلائے گی، ماضی قریب میں سیاسی اتحادوں کے تجربے اچھے نہیں رہے ہیں، ہم مزید نہ کسی کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ خود ہونا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کا کردار ہم پارلیمنٹ کے اندر بھی کریں گے اور باہر بھی ، مسائل کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد ہو سکتا ہے، اسٹیبلشمنٹ نے اب جا کر اپنے داخلی معاملات کو سنجیدگی سے لیا ہے، شاید وہ اس قابل اب جا کر ہوئے ہیں، ہم ان معاملات میں ان کے فریق نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 2018 کے بعد اسمبلیاں اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہیں، اس سیاست میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، 2018 کے بعد فوجی سربراہ کی منشا کے مطابق انتخابی نتائج آرہے ہیں جو کہ آمرانہ انداز ہے، بھارت ،امریکا اور برطانیہ میں یہ سوال کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ ہمارے ہاں ہر الیکشن متنازع ہو جاتا ہے، اب تو یہاں باقاعدہ اسمبلیاں خریدی گئی ہیں، اب یہاں کون سیاست کر سکتا ہے جہاں صرف پیسہ ہی ایمان بن جائے اور پیسہ ہی سیاست ہو ، عوامی رائے اور نظریات کی اہمیت ہی نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ اب عوامی اسمبلیوں کی اہمیت ہوگی کہ آپ کے پاس اسٹریٹ پاور کیا ہے، ملک کا سیاسی عدم استحکام معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے، اگر ریاست ہی غیر مستحکم ہوجائے تو بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں، بنگلہ دیش میں 20 دن کے اندر ہی کایا پلٹ گئی کیونکہ وہاں مینڈیٹ ایک ہوا کا غبارہ تھا، ہم بنگلہ دیش جیسے حالات کی جانب نہیں جانا چاہتے۔مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ اگر ہمیں سیاست میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت دے دی جائے تو ہمیں اپنی شکست پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، ہمیں پورے ملک کی انتخابی نتائج پر اعتراض ہے صرف پنجاب بلوچستان نہیں بلکہ سندھ اور خیبرپختونخوا پر بھی ہے، ہمیں اس حکومت سے مذاکرات سے کوئی انکار نہیں لیکن ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…