جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی آتشزدگی: عامر نے بیٹے سمیت 25 افراد کی جان بچائی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے راشد منہاس روڈ پر شاپنگ مال میں آتشزدگی کے دوران لفٹ بند اور سیڑھیاں جل رہی تھیں، محمد عامر نامی شخص نے اپنے بیٹے سمیت 25 افراد کی جان بچائی۔باپ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر لفٹ توڑی اندر داخل ہو کر بیٹے سمیت کئی افراد کی زندگیاں بچائیں۔ہفتہ کی صبح سویرے لگنے والی آگ سے راشد منہاس روڈ پر واقع مال میں اتنا دھواں بھر گیا تھا کہ فائر بریگیڈ آپریشن کے اہلکاروں تک کو مشکل پیش آرہی تھی، لیکن عامر نامی اس شخص نے ناصرف اپنے بیٹے کو بچایا بلکہ 25 لوگوں کو مزید اس بلڈنگ سے بحفاطت نکالنے کیلیے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

عامر نے بتایاکہ فجر کے وقت اپنے بیٹے کی فون کال پر آگ کا سن کر اس عمارت تک پہنچا اور پھر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، مشکلات کا ذہن میں خیال بھی نہیں تھا بس فکر تھی کہ بچوں کو با حفاظت نکال لوں، پھر جب سبحان کو دیکھا تو آنسو آگئے پھر ماں سے بات کروائی۔عامر کا بیٹا عبدالسبحان دیگر دوستوں کے ساتھ پلازہ کی چوتھی منزل پر موجود ایک کال سینٹر میں کام کرتا تھا۔اس حوالے سے سبحان نے بتایا کہ آگ کی جیسے ہی اطلاع ملی سب تیزی سے لفٹ کی طرف بھاگے مگر لفٹ بند تھی، جس کے بعد ہم سیڑھیوں کی طرف بھاگے مگر فورا ہی پتا چلا کہ آگ سیڑھیوں کی طرف لگی ہوئی ہے پھر ہم نے خود کو ایک شیشے کے کمرے میں بند کرلیا، جس کے بعد دھواں پھیلتا جا رہا تھا اور ہمارے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی دم گھٹ جائے گا، شیشے کے روم میں داخل ہوکر گیلے کپڑے سے چہرے ڈھانپے اور مدد کا انتظار کیا، ابو کو کال کی اور کہا کہ بابا اب ہمارے پاس وقت کم رہ گیا ہے لگتا ہے دھواں جلد جان لے لے گا۔

عامر کی طرح بہت سے شہری تھے جنہوں نے اپنی جان کی پراوہ کیے بغیر ریسکیو آپریشن میں حصہ لے کر بہت سے شہریوں کی جان بچائی، ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے سد باب کیلیے متعلقہ حکام عملی اقدامات اٹھا کر مزید حادثات ہونے سے روکیں۔واضح رہے کہ 25 نومبر کو کراچی کے راشد منہاس روڈ پر شاپنگ مال میں آتشزدگی میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور درجنوں دکانیں جل گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…