جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

نیب کے خوف سے بیوروکریسی فیصلے کرنے سے گریزاں،40 آئی پی پیز کو تقریباً 400 ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگی التوا کا شکار، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف سے بیوروکریسی فیصلے کرنے سے گریزاں ہے۔ایک انٹرویومیں آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں میں تاخیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نیب کے پاس ہے اور

40 آئی پی پیز کو تقریباً 400 ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگی التوا کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ جب واجب الادا رقم کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہو گا تب ہی کے-الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے حوالے کرنے سے متعلق معاملات آگے بڑھیں گے۔تابش گوہر نے کہا کہ کے-الیکٹرک کی ادائیگیوں اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کے حوالے سے تاثر غلط تھا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام زیر التوا رقوم جلد سے جلد ادا کر دی جائے اور قانونی مسائل حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی پاور سمیت کے-الیکٹرک کا کوئی بھی خریدار ہو تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، دو کروڑ صارفین کی خدمت کرنے والا یہ ادارہ گزشتہ 4سال سے تذبذب کا شکار ہے اور اس کی باگ ڈور ایسے ادارے کو منتقل ہونی چاہیے جو مزید سرمایہ کاری کر سکے اس لیے حکومت اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام تر کوششیں کررہی ہے۔تابش گوہر نے کہا کہ ریکوڈک یا ماضی میں ہارے گئے کیسوں کے ڈر سے ہم اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہو سکتے، یہاں اربوں روپے کی بات ہو رہی ہے جو قومی خزانے سے ہی جانے ہیں، تو اگر ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کے مطابق ہم نے کوئی مؤقف اختیار کیا ہوا ہے تو بین الاقوامی عدالت ہو یا مقامی عدالت، ہم اپنے مؤقف میں سرخرو ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مفادات کا ٹکراؤ مجھ پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ میرے کے-الیکٹرک میں کوئی شیئرز نہیں ہیں، میں چھ سال پہلے کے-الیکٹرک سے مستعفی ہو گیا تھا، میں محض معاون خصوصی ہوں اور فیصلے وفاقی کابینہ اور وزرا کرتے ہیں اور میں صرف مشورہ دیتا ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…