نواز شریف نے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا بیان دیا تھا تو انہیں اس وقت غدار بنا دیا گیا،ہماری اسٹیبلشمنٹ ،عدلیہ اور قائدین کو سوچنا پڑے گا پاکستان کیوں نہیں چل رہا ،وزیراعظم کیلئے بھی اہم پیغام

  جمعہ‬‮ 19 مارچ‬‮ 2021  |  22:54

لاہور(این این آئی ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ 2016ء نواز شریف نے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا بیان دیا تھا تو انہیں اس وقت غدار بنا دیا گیا ڈان لیکس آ گئی،اگر ان کی بات پر عمل کر لیا جاتا تو آج ایف اے ٹی ایف والا معاملہ نہ ہوتا ،ملکی سیاست سے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا آغاز ہو گا تو ہی ملکیحالات بہتر ہو سکتے ہیں جس کے لیے آزاد ،صاف اور شفاف انتخابات کروائے جائیں ،امید ہے پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ چلے گی ، پی


ڈی ایم کی طاقت قائم و دائم ہے ، اگر پیپلز پارٹی ساتھ نہیں بھی چلتی تو بھی اس حکومت کو نکال کر اس ملک میں آئینی حکومت قائم کریں گے ،مسلم لیگ (ن) ان حکومتی نمائندوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی کیونکہ ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہوتا ،ہماری اسٹیبلشمنٹ ،عدلیہ اور قائدین کو سوچنا پڑے گا کہ پاکستان کیوں نہیں چل رہا ،نیب سے اب ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہم نے اسے بھگت لیااب عمران خان کو فکر کرنی چاہیے، حکومت ایسی قانون سازی کرنے جارہی ہے جس سے اسٹیٹ بینک کو عالمی داروں کے پاس گروی رکھوایا جارہا ہے ، اسٹیٹ بینک پاکستان کی بجائے عالمی اداروں کو جوابدہ ہوگا ،عمران خان تسلیم کر لیں آپ سے حکومت نہیں چل رہی ، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مر کزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میںڈاکٹر شذرہ منصب اور مائزہ حمید کے ہمراہپریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ اقتدار میں ایسے شخص کو بٹھا دیا گیا ہے جو جھوٹ بول کر اپنی نالائقی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے عمران خان نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے تعلیم کے لئے کچھ نہیں کیا حالانکہ مالاکنڈ یونیورسٹی منصوبہ 2015ء میں ہم نے شروع کیا اور اس منصوبے پر 2 تہائی کام ہمارے دور میں مکمل ہو چکا تھا ، عمران خان کی حکومت نے اس منصوبے کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے او رجو منصوبہ 2018-19ء میں مکمل ہونا تھا اسے تاخیر کا شکار کیا گیا اور آج آپ اس کی فیتی کاٹ رہے ہیں۔ آپ نے مزدوروں کے فلیٹسکے پرائے منصوبے کا افتتاح کر کے خود کو ورکرز کا مسیحا قرار دیا ،ان ورکرز کے لئے نواز شریف نے 80 کی دہائی میں کام شروع کیا تھا ،عمران خان نے گزشتہ 3 سالوں میں ورکرز کے لئے کیا کیا ہے،آپ کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے تو آپ صرف ماضی پر تنقید ہی کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کونسی ایسی حکومتنے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی کو اتنے کم عرصے میں 3فیصد سے اٹھا کر ساڑھے 5فیصد سے اوپر پہنچا دیا ۔ ہم نے پانچ سالوں میں اگر 10ہزار ارب روپے قرضہ لیا تو اس کے عوض نے ہم نے گروتھ کو 3سے 5.8فیصد پر پہنچادیا ۔ ہم نے اگر 10ہزار ارب اضافی قرضہ لیا تو توانائی کے انفراسٹرکچر اور تاریخ کی سبسے بڑی ڈویلپمنٹ کرکے دکھائی ،اگرآپ نے پوچھنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ترقی کی یا چوری کی تو کراچی حیدر آباد موٹرو ے پر سفر کرنے والے سے پوچھیں ،اگر آپ نے چوری کا پوچھنا ہے تو ملتان سے سکھر موٹر وے پرسفر کرنے والے سے پوچھیں، گلگت بلتستان میں جو شاہرائیں اور یونیورسٹیاں بنی ہیں ان سے پوچھیں کہ مسلملیگ (ن) نے چوری کی تھی یا خدمت کی تھی ،آج آپ کے پاس دکھانے کیلئے کچھ نہیں،ہماری حکومتوں کے منصوبوں پر جا کر تختیاں لگاتے ہیں اورہمیں ہی باتیں سناتے ہیں ،کچھ خدا کا خوف کریں ،مان جائیں کہ آپ کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے ، صلاحیت نہیں ہے ، آپ ایک ناکام حکمران ہیں جس نے پاکستان کی معیشت کو کریش کردیا ہے ، جس نے پاکستان کو دنیا کے سامنے رسو ا کر دیاہے ،آج پاکستان کا ہر دوست ہم سے پیچھے ہٹ گیا ہے ، آپ جس کے پاس گئے پیسہ مانگنے گئے جس کے پاس بھی گئے فقیر بن کر گئے وہ کدھر ہے عمران خان جس نے کہا تھا کہ پیسہ نہیں مانگوں کا خود کشی کر لوں گا ،اگر آپ نے اپنے قول پر عمل کیا ہوتاتو ملک اس تباہی سے بچگیا ہوتا ،بجائے اپنی حکمرانی پر توجہ دیں آپ ہر بات پر قوم کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں مخالفین پر کیچڑ اچھالتے ہیں اس طرح حکومت نہیں چل سکتی ۔ اگر ہم نے چوری کی ہے تو ثابت کریں ،جو چور ہوتا ہے وہ پانچ سالوں میں 3200ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ خرچ کر سکتا ہے جو چور ہوتا ہے وہ 11ہزار میگا واٹ ،دو ہزار کلومیٹر موٹر ویز نہیں بناتا ، دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لئے فوج کو پانچ سوارب روپے نہیںدیتے جوچور ہوتا ہے وہ تاریخ کاسب سے بڑا دفاعی اور ترقیاتی بجٹ خرچ نہیں کر سکتا یہ وہی کر سکتے ہیں جو ملک کی خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں ،آج پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ہماری خدمت اور ہماری ترقی کے گواہ ہیں اسی لئے ہرضمنی انتخاب میں آپ کومار پڑ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ جہاں جاتے ہیں قوم کو گمراہ کرتے ہیں، آپ نے کونسی یونیورسٹی کھولی ہے ،جس مالا کنڈ یونیورسٹی کا آپ نے افتتاح کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے 2015ء میں اس منصوبے کو شروع کیا اور اسے 2018-19ء میں مکمل ہونا تھا اور ہم نے اس کے لئے بجٹ میں پیسے بھیرکھے لیکن آپ نے اس کے فنڈز استعمال نہیں کئے اور اس میں تاخیر ہوئی ، آج آپ ہمارے منصوبے کی فیتی کاٹ کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ سیالکوٹ میں یونیورسٹی کے منصوبے کا بھی کریڈٹ لے رہے تھے لیکن آپ کی چوری پکڑی گئی آج بھی آپ کی چوری پکڑی گئی ہے۔ آپ اپنے منصوبوں کا بتائیں ، آپ نے ترقیاتیبجٹ ایک ہزار ارب سے کم کر کے پانچ سو ارب روپے کر دیا ہے ،سی پیک کے جاری منصوبے ہیں فنڈز نہیں ہے ، تین سالوں میں سی پیک کے تحت کون سا منصوبہ شروع کیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ آپ مان جائیں آپ کو حکومت چلانا نہیں آتا ،آپ کی تیاری او روژن نہیں تھا ،مان جائیں آپ نے قوم سے دھوکہ کیا ہے ، بجائے اس کےملک کو مزید تباہ کریں استعفیٰ دیں اور اور گھر جائیں ۔انہو ں نے کہا کہ یہ حکومت پاکستان کو دیوالیہ کر چکی ہے ،اب یہ اسٹیٹ بینک کوآئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ رہی ہے ، آئی ایم ایف سے قسط لینے کی قیمت ادا کی جارہی ہے ،اسے آئی ایم ایف کا ذیلی دفتر بنا رہی ہے ،حکومت ایسا قانون لا رہی ہے جس کے بعد اسٹیٹ بینک نہ پارلیمنٹکوجوابدہ ہوگا نہ وزیر اعظم نہ اس ملک کے کسی ادارے کو جوابدہ ہو گا ،وہ بین الاقوامی اداروں کو جوابدہ ہوگا ، ایسا قانون لا رہی ہے جس کے تحت ڈویلپمنٹ اور گروتھ پاکستان اسٹیٹ بنک کی دسترس سے نکل جائے گی بلکہ یہ صرف انٹر سٹ ریٹ کو بڑھا کر انفلیشن کو کنٹرول کرنے کا کاروبار کرے گی ،اسٹیٹ بینک کے گورنر اور دیگرعہدیداران سے نیب ،ایف آئی اے یا کوئی بھی ادارہ پوچھ نہیں سکے گا ،ہاٹ منی لانے کیلئے کس نے کتنا پیسہ کھایا اس کی انکوائری نہیں ہو سکے گی ، اگر پاکستان کا وزیر اعظم نیب کے سامنے پیش ہو سکتا ہے تو پھر گورنر اسٹیٹ بینک کیوں پیش نہیں ہو سکتا ،یہ صرف پاکستان کی معیشت کو بین الاقوامی اداروں کے پاس گروی رکھنےکا منصوبہ ہے ، عمران خان کی پاکستان کی مالی خود مختاری کا سودا کر رہا ہے یہ صرف اپنی نالائقی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے ، حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں یہ ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکے ،گروتھ نہیں کر سکے ،روپے کی قدر میں چالیس فیصد کمی کے باوجود آج بھی برآمدات 2018ء کی سطح پر ہیں ۔ عمران خان آپ پوریدنیا کے سامنے شفافیت کے مبلغ بنے ہوئے ہیں اخلاقیات کے پروفیسر بنے ہوئے ہیں لیکن آپ فارن فنڈنگ کیس میں اعلی عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں،آپ کے قول و فعل میں تضاد ہے اور آپ کے جرائم بہت گھنائونے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا ویکسین کے لئے پیسے کیوں مختص نہیں کئے ،یہ ساریویکسین چینی حکومت نے عطیہ کی ہے، چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،عمران خان کو صرف چندے کا کام آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کی تقریر سے تاثر آیا ہے کہ اس حکومت نے کشمیر کو بھلا دیا ہے ،عمران خان کشمیر کا سوداگر اور سقوط کشمیر کا ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر توانائی ٹو منصوبے کا سنگ بنیادنواز شریف نے رکھا تھا، اس کے پہلے منصوبے کی تکمیل پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں اور اس کے لئے چینی حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے،یہی بات 2016ء میں نواز شریف نے کی تو ان کو غدار کہا گیا ڈان لیکس آگئی،اپنا گھر ٹھیککرنے کا بیان نواز شریف نے دیا تھا تو انہیں اس وقت غدار بنا دیا گیا تھا ،اگر ان کی بات پر عمل کر لیا جاتا تو آج ایف اے ٹی ایف والا معاملہ نہ ہوتا ،آج سب کو پتہ لگ گیا ہے ہائوس ان آرڈر کرنا ہے،اگر پاکستان میں پولرائزیشن ہوگی تو کچھ نہیں ہوسکتا، ملکی سیاست سے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا آغاز ہو گا تو ہی ملکی حالات بہتر ہو سکتےہیں جس کے لیے آزاد ،صاف اور شفاف انتخابات کروائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی کی صلاحیت کو مسلم لیگ (ن) نے بڑھایا اور اسے دہشتگردی کیخلاف لڑنے کے قابل بنایا ،ہم نے اسے سیاسی مخالفین کیخلاف جھوٹی کارروائیوں کے لئے نہیں بنایا تھا ،آئی بی کے افسران اور اہلکار حکومت کے سیاسی ایجنڈے پر عملدرآمد کے پابندنہیں ہیں ،آئی بی کو نیب نہیں بننے دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی طلبی سے ثابت ہو گیا کہ نیب عمران خان کے ایجنڈے پر چلتا ہے ،چیئرمین نیب صاحب نیب کیس نہیں بلکہ صرف فیس ہی دیکھتا ہے ، یہ آپ نے ہی کہا تھاناں میں کہتا ہوں کہ نیب کیس نہیں فیس دیکھتا ہے،یہ حکومت والے قومی اداروں کو ملیا میٹ کر ری ہے ،مسلملیگ (ن) ان حکومتی نمائندوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی کیونکہ ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال مکمل ہونے پر بنگلہ دیش کی حکومت کا پوسٹر ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ،ملک کو آئین کے مطابق نہیں چلایا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے پیپلز پارٹی ساتھ چلے گی ،پی ڈی ایم کی طاقت قائم و دائم ہے ، اگر پیپلز پارٹی نہیں بھی ساتھ چلتی تو اس کے بغیر بھی حکومت کو نکال کر اس ملک میں آئینی حکومت قائم کریں گے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎