جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی شروع

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی شروع کردی گئی۔اس سلسلے میں ہونے والی تقریب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی موٹر وے علی شیر جاکھرانی بتایا کہ موٹر وے ساؤتھ زون کے پاس اس وقت ملک کا سب سے زیادہ936 کلومیٹر کا علاقہ ہے ، اس میں ہمارا فوکس کراچی

سے حیدرآباد کا راستہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، اس علاقے میں ایک گاڑی بھی خراب ہوجائے تو کئی کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوتا ہے اور ٹریفک کی روانی میں تعطل پیدا ہوجاتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلی مرتبہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی اپنائی گئی ہے اور اس سلسلے میں موٹر وے پولیس نے پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ہے جس کے تحت نہ صرف ٹریفک کی نگرانی کی جائے گی بلکہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ڈرائیورز کی موٹر وے کے دفتر میں کاؤنسلنگ بھی کی جائے گی،علی شیر جاکھرانی نے مزید بتایا کہ جمعرات کو اس منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے پہلا چالان بھی کردیا گیا ہے ، چالان کیے گئے ڈرائیور کو اس کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں وہ ٹریفک لین (ٹریک) کی خلاف ورزی کرتا ہوا نظر آرہا ہے،انہوں نے بتایا کہ ڈرون کی مدد سے پتا چلا کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان چار فلیش پوائنٹس ہیں جہاں قوانین کی خلاف ورزی ہو یا کوئی گاڑی خراب ہوجائے تو کئی کلومیٹر تک گاڑیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں ، مذکورہ روٹ پر یومیہ کم و بیش ایک لاکھ گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے اور کسی بھی ڈرائیور کی معمولی سی غلطی سے سیکڑوں افراد پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں،ڈی آئی جی علی شیر جاکھرانی کا کہنا تھا کہ اس روٹ پر پبلک

ٹرا نسپو ر ٹ کی بھی بھرمار ہے ، اگر پبلک ٹرانسپورٹ کا ڈرائیور پہلی مرتبہ قوانین کی خلاف ورزی پر پکڑا جائے گا تو اس کا صرف چالان کیا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے ڈرائیورز کو ایک گھنٹے کی آگاہی (کاؤنسلنگ) بھی دی جائے گی لیکن اگر تسلسل کے ساتھ کسی کمپنی کے ڈرائیور قوانین کی خلاف ورزی

کے مر تکب ہوئے تو کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی،علی شیر جاکھرانی نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے اسے پورے ملک تک پھیلایا جائے گا اور ملک بھر کی موٹر ویز پر ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…