اکبر ایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی سے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا جمع شدہ ریکارڈ مانگ لیا

  بدھ‬‮ 10 مارچ‬‮ 2021  |  23:43

اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف کی غیرملکی پارٹی فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی سے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا جمع شدہ ریکارڈ مانگ لیا ،تحریک انصاف کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو فراہم کیا جائے یا نہیں ،فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا،درخواست پر 16مارچ کوسماعت کرے گا۔تحریک انصاف کی غیرملکی پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تحریک انصاف کے جمع کرائے گئے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ، اکبر ایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی سے ایک بار پھر پی ٹی آئی


کا جمع شدہ ریکارڈ مانگ لیا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو دینے کی درخواست الیکشن کمیشن نے 16 مارچ کو سماعت کے لئے مقرر کر دی۔ جبکہ سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 18 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس نظام انصاف پر کلنک کا ٹیکہ ہے یہ 30 دن کا معاملہ تھا، 3 سال ہوگئے لیکن تحقیقات باقی ہیں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم نے درخواست کی ہے الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے 4 ملازمین کے اکائونٹس کی تفصیل اسٹیٹ بینک کے زریعہ حاصل کرے بینک اکائونٹس کو اعلی قیادت اور عمران خان آپریٹ کرتے تھے۔ تحریک انصاف کی غیرملکی پارٹی فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی سے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا جمع شدہ ریکارڈ مانگ لیا ،تحریک انصاف کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو فراہم کیا جائے یا نہیں ،فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا،درخواست پر 16مارچ کوسماعت کرے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎