ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عائشہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ میری بیٹی ہے ڈاکٹر عائشہ کی تقرری میرٹ پر ہوئی، کیا برطانیہ میں میری سفارش تھی؟یاسمین راشد کا انگلیاں اٹھانے والوں سے سوال

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں فیٹل میڈیسن کے شعبے میں کام کرنے والی ڈاکٹر عائشہ علی کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کردی گئی۔روزنامہ جنگ میں رئیس انصاری کی شائع رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عائشہ نے لاکھوں کی تنخواہ چھوڑ کر اپنے ملک میں خدمات انجام دینے

کا فیصلہ کیا تھا، ان کی تقرری پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کنگ ایڈورڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ سینڈیکیٹ اور بورڈ کی منظوری کے بعد ڈاکٹر عائشہ کی تقرری میرٹ پر ہوئی ہے اور ڈبل فیلو شپ رکھنے والی یہ واحد امیدوار تھیں۔دوسری جانب ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری میرٹ پر ہوئی ، باہر سے ڈاکٹر واپس پاکستان آکر خدمت کرنا چاہیں تو ان کو خوش آمدید کہنا چائیے، انہیں اپنی تقرری کے بارے میں مختلف باتیں سن کر دل آزاری ہوئی ۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی میں گائنی کے اسپیشلائز شعبوں میں چار ڈاکٹروں کو رکھنے جانا تھا، دو میں موزوں امیدوار نہیں ملے جبکہ ان کی بیٹی کے ساتھ ایک اور ڈاکٹر کی تقرری بھی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ کی میرٹ پر تقرری ہوئی ہے، کیا برطانیہ میں ایم آر سی او جی کرنے اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں بھی میری سفارش تھی؟

پتہ نہیں اس بات کو اسکینڈل بنانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے،عائشہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ میری بیٹی ہے، ہمیں یہ دیکھنا چائیے کہ ڈاکٹرپاکستان آکرخدمات انجام دیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔واضح رہے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ علی

جو23 سال سے ڈاکٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں، انہوں نے 1998 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس پاس کیا، زمانہ طالب علمی میں کئی میڈل بھی حاصل کئے، گائنی کے شعبے میں ایف سی پی ایس کرنے کے بعد ایک میڈیکل کالج میں ساڑھے تین تک پڑھاتی رہیں، پھراعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلی گئی اور وہاں ایم آر سی او جی کرنے کے بعد رائل کالج سے فیٹل میڈیسن میں تربیت لینے کے بعد برطانیہ کے ایک بڑے ہسپتال میں کام کررہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…