فارن فنڈنگ کیس، کمیٹی ناکام ہوچکی ، جو سکروٹنی ہو رہی ہے وہ بالکل شفاف نہیں ،پی ٹی آئی نے میڈیا پر جھوٹ بولا،اکبر ایس بابر نے سوالات اٹھا دیے

  بدھ‬‮ 20 جنوری‬‮ 2021  |  23:25

اسلام آباد( آن لائن )پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی ناکام ہوچکی ہے، جو سکروٹنی ہو رہی ہے وہ بالکل شفاف نہیں ہے،تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے ،سب کے سامنے سماعت کی جائے۔بدھ کو پی ٹیآئی کی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کیلئے الیکشن کمیشن کی قائم کردہ سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزاراکبرایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ


سکروٹنی کمیٹی درست طریقے سے کام نہیں کر رہی تھی، کمیٹی ناکام ہوچکی ہے، جو سکروٹنی ہو رہی ہے وہ بالکل شفاف نہیں، تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے اور سب کے سامنے سماعت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے ہم نے دستاویزات ویب سائٹ سے حاصل کرکے کمیٹی کو دیں، سکروٹنی کمیٹی نے یہ دستاویزات خودویب سائٹ سے ڈائون لوڈکرکے پی ٹی آئی کو بھی فراہم کیں، ہم نے سکروٹنی کمیٹی سے کہاکہ آپ ان دستاویزات کوتسلیم کرتے ہیں یانہیں،آپ نے آج فیصلہ سنانا تھا، الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کو ذمہ داری دی تھی کہ دستاویزات کی تصدیق کریں یا تردید کریں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی نے کہا ہم دستاویزات کی تصدیق سے متعلق فیصلہ نہیں دیں گے، فیصلہ الیکشن کمیشن فیصلہ کریگا، سکروٹنی کمیٹی کیا پی ٹی آئی کے جرائم پر پردہ ڈالنے بیٹھی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے میڈیا پر جھوٹ بولا کہ کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ دے گی، کمیٹی نے کچھ نہیں بولا اور اجلاس سے اٹھ کر چلیگئی،کمیٹی نے کہا کہ آپ نے ہم پر عدم اعتماد کیا اس لئے ہم اٹھ کرجارہے ہیں،ہماری درخواست الیکشن کمیشن کے سامنے موجود ہے کہ الیکشن کمیشن ریکارڈ منگواکر فیصلہ کرے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اکبر ایس بابر /درخواست دہندہ نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاککے دوران تاثر دینے کی کوشش کی کہ سکروٹنی کمیٹی جانبدار ہے وہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے ۔سکروٹنی کمیٹی اپنے مقرر کردہ TORs کے مطابق بڑی محنتاور دیانتداری سے کام کر رہی ہے ۔جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کو سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس2:40پر شروع ہوا سائل اکبر ایس بابر بمعہ وکیل اور پاکستان تحریک انصافکے نمائندگان بمعہ وکیل پیش ہوئے ۔کمیٹی نے قانونی طریقہ کار کے مطابق ان دستاویزات جو کہ دونوں فریقین نے کمیٹی کو جمع کرائی تھیں ان کی چھان بین شروع کی ۔بالخصوص پی ٹی آئی کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات اور جوابات جو کہ درخواست دہندہ کی جمع کرائی گئی دستاویزات کی بنیاد پر سوالات کی شکل میںکمیٹی نے پی ٹی آئی سے کیے تھے ان جوابات پر بحث شروع کی ۔اس دوران سائل اور اس کے وکیل نے کمیٹی کے کام میں بار بار رکاوٹ ڈالنے اور کمیٹی کو دباو میں لانے کی کوشش کی ۔اس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ موقف اپنایا اور فریقین کو یقین دلایا کہ کمیٹی اپنی سفارشات بغیر کسی دباو کے الیکشن کمیشن کے سامنے جمع کرانے کیپابند ہے ۔مذید براں کمیٹی نے یہ واضح کیا کہ کمیٹی فریقین کے دباو میں نہیں آئیگی اور اپنی سفارشات غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرے گی۔اس دوران سائل نے کمیٹی سے کہا کہ وہ اس کمیٹی پر اعتماد نہیں کرتے جس پر کمیٹی نے مجبورا اپنا اجلاس ختم کر دیا ۔سکروٹنی کمیٹی ابھی بھی اپنے طے شدہ TORs کے مطابق میرٹ اور شواہد کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کر کے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرے گی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎