یہ ہمیں پھنساتے ہوئے خود پھنس گئے، اب اپوزیشن کو فنڈنگ کا جواب دینا پڑے گا، پی ٹی آئی کے پاس فنڈز دینے والے 40 ہزار ناموں کی تفصیلات موجود ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات کا دعویٰ

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  19:56

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کرنے والے خود پھنس گئے ہیں، 19جنوری کے احتجاج کے بجائے پیر کو اپنی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں اور عوام کو بھی پتہ چلے نوسر باز کون ہیں؟،اپوزیشن کے احتجاج سے حکومت کوکوئی پریشانی نہیں،پی ڈی ایم دم توڑ چکی ہے،پی ڈی ایم کو لیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج پر ہزیمت، ناکامی اور رسوائی کا سامنا کر نا پڑیگا،مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے جو کامیاب نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا


کہ تحریک انصاف کے پاس فنڈز دینے والے چالیس ہزار ناموں کی تفصیلات موجود ہیں۔ وہ اتوار کو پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مختلف اوقات میں اقتدار میں آتی رہی ہیں، انہوں نے اپنی حکومتوں میں رہ کر اداروں کو پامال کیا اور مفلو ج کیا، اپنے مفادکیلئے انہوں نے ہر ادارے کو پامال کیا اور یہ پارٹیاں اب اداروں کے خلاف کھڑی ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کا سفر دھمکیوں پر تھا، جلسے، استعفوں سے شروع ہوئے،ریلیوں پر آئے، عوام سے ان کو پذیرائی نہیں ملی اور آہستہ آہستہ ٹی وی پر یہ پروگرامز ہورہے ہیں کہ ایک تھی پی ڈی ایم۔انہوں نے کہاکہ تحریک ماضی کا حصہ بن چکی ہے اور اس کے محرکین، سیاسی پارٹیوں نے تمام پتے کھیل لئے ہیں اور ہر محاذ پر شکست، ہزیمت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا، اب ایک آخری پتہ رہ گیا ہے اور وہ بھی استعمال کر نے جارہے ہیں وہ یہ ہے کہ جھوٹ کو بار بار بول کر سچ ثابت کر نے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہپرسوں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کر نے آرہے ہیں، ایک بھونڈی کوشش اور ڈھٹائی پن اور عوام کو گمراہ کر نے اوراداورں کو پریشر لانے کیلئے ایکٹیوٹی کی جارہی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ جو بات کررہے ہیں وہ سچ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی جانب سے جب مولانا فضل الرحمن کو نوٹس ملا ہے تو اس نے کہا ہے کہ میں تمامپارٹی کے ساتھ پہنچوں گا،بجائے سوالات کا جواب دینے کے آپ ایک جتھہ لیکر جارہے ہیں اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے جواب آپ کے پاس ہے نہیں اور آپ صرف جتھے لاکر اداروں کو دھمکانہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس میں ہم نے شروع سے لیکر سکرونٹی کمیٹی کو تفصیلات پیش کر دی ہیں، چالیس ہزار افراد کی مصدقہتفصیل دی ہے جن کی بنک کے ذریعے رقم جمع ہوئی جو میڈیا کے سامنے بھی پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں جس طرح سے اداروں کو چلایا جاتا تھا وہ سامنے ہے، یہ ہمیں پھنساتے ہوئے خود پھنس گئے ہیں، ہم نے اپنا تمام حساب سامنے رکھ دیا ہے جب بات ان پر آئی ہے تو فنڈنگ کیس میں اپنے ثبوت جمع کرائیں۔ انہوں نےکہاکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ان لوگوں سے پیسہ لیتے ہیں جن کی اقتدار میں آنے کے بعد مدد کر سکیں او ر ان کو ہر غیر قانونی کام میں بچائیں،وزیراعظم اور اس کے وزیر سب غیر قانونی کام کررہے ہوں، پیسہ باہر بھیج رہے ہوں، منی لانڈرنگ کررہے ہوں اس طرح کے سکروٹنی کمیٹی کو جواب ہی نہیں دئیے۔ انہوںنے کہاکہ اس موقع پر وزیر اطلاعات نے الیکشن کمیشن کا خط پڑھ کر بھی سنایا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن ان سے کہہ رہا ہے کہ جنہوں نے آپ کو چندے دیئے ہیں ان کے شناختی کارڈ اور دیگر انفارمیشن جمع کرائیں اور یہ جواب دینے کے بجائے احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ساری دستاویزات جمع کرادی ہیں اور ان سےمانگی جا رہی ہیں تو یہ جمع نہیں کرارہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپنے جوابات دینے کے بجائے کہتے ہیں یہ بھی چور ہے وہ بھی چور ہے، سوال آپ سے پوچھا جارہاہے آپ کہتے ہیں وہ بھی چور ہے، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن پارٹیز اس وقت منافقت کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں جسریاست کا میں حصہ نہیں ہوں وہ ریاست نا مکمل ہے وہ کہتے ہیں نیب کون ہوتا ہے؟ میں نیب کے سامنے پوری پارٹی لیکر جاؤنگا، یہ تبدیلی ہے، ماضی میں اقتدار میں رہنے والی پارٹیوں نے ملک کو ذاتی جاگیر بنایا ہوا تھا، من پسند فیصلے چاہتے ہیں اور چاہتے تھے، سارے اداروں میں انہوں نے اپنے لوگ بٹھائے ہوئے تھے اور مرضی کےفیصلے چاہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پلوں اور سڑکوں کا ذکر کر نے والے انہی کاموں میں کمیشن لیتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سمجھتے ہیں قانون سے مبرا ہیں، یہ سمجھتے تھے ان کے قانون مختلف ہے اور عام پاکستانیوں کیلئے مختلف ہے انہوں نے عدالتوں اور اداروں پر پریشر ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے پہلے کوئی سوال نہیں پوچھتا تھااب عمران خان سوال پوچھتا ہے، اس کا اپنا دامن صاف ہے اس کا کوئی کاروبارنہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی پیر کو پیشی ہے،یہ پرسوں کے بجائے پیر کو اپنی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چل سکے کہ جھوٹے، فریبی، نوسر باز کون ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ثبوت کوئی نہیں ہے اور کہتے ہیں الیکشن میں دھاندلیہوئی ہے، کسی ادارے کے پاس نہیں گئے ، الیکشن کمیشن کے نتائج ان کے مرضی کے نہیں آئے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عوام کے لوٹے ہوئے پیسوں کا جواب مانگ رہے ہیں تو یہ سارے اکٹھے ہوگئے ہیں اور حکومت کو گرانے کی کوشش کررہے ہیں، ان کا خاتمہ ہو نے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری درخواست ہے کہ یہ اپنیتفصیلات سکروٹنی کمیٹی کو جمع کرائیں انہوں نے کہاکہ جتھوں اور احتجاج کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنا ریکارڈ جمع کرائیں پھر انگلی اٹھائیں تب بات بنے گی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کے خلاف بار بار جھوٹ بول رہے ہیں، آپ کو فارن فنڈنگ کا مطلب ہی نہیں پتہ، ان کو جواب دینا ہوگا۔ اس موقع پر فرخ حبیب نےکہاکہ اس معاملے پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، پولیٹیکل پارٹیز آر ڈیننس آرٹیکل 63اور آئین کا آرٹیکل 173تمام جماعتوں کو پابند بناتا ہے کہ انہوں نے اپنی اکاؤنٹس کا ریکارڈ رکھنا ہے، اس کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرانے ہیں، الیکشن کمیشن نے اس کی جانچ پڑتال کے بعد انتخابی نشان جاری کر نے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کیلئے سکروٹنی کمیٹی کو بنے ہوئے چار سال ہوگئے ہیں اور ایک کیس چل رہا ہے، الیکشن کمیشن اس پر تین تحریری آر ڈر جاری کر چکا ہے، آخری آر ڈر 24ستمبر کو جاری ہوا جس میں پانچ نومبر کی تاریخ دی گئی تھی جس کو گزرے بھی دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن کوئیریکارڈ، ثبوت اور رسیدیں سکروٹنی کمیٹی کے سامنے نہیں رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے فارم ون کے مطابق آپ نے اپنی آمدن بتانی ہے، اپنے اخراجات بھی بتانے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدن بھی بتانے ہیں،ہمیں قطر ی خط والے ذرائع نہ بتائیں ہمیں حقیقی ذرائع بتائیں۔انہوں نے کہاکہ کیا یہ فنڈہنڈی سے آتےرہے ہیں، کیا حوالے سے آتے رہے ہیں، کیا آپ منی لارنڈنگ کا حصہ رہے ہیں یا آپ فارن فنڈنگ لیتے رہے ہیں، کس چیز کا خوف آپ کو روکے ہوئے ہے، چار سال کا عرصہ گزر گیا ہے،آپ اپنا ریکارڈ جمع نہیں کرارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 70کروڑ روپے کی واردات میڈیا کے نام پر ڈالی ہوئی ہے،کسی کو نہیں پتہ کس میڈیا ہاؤس کےکتنے پیسے دیئے، کس اینکر کو کتنے پیسے دیئے؟ بس نام ڈال دیا ہے اور سمجھ لیا ہمارا کام تمام ہوگیا ہے، ان کے پاس اخلاقی جواز کیا رہ جاتا ہے، یہ کس منہ سے 19جنوری کو احتجاج کررہے ہیں،آپ اس میچ کا کپ لینا چاہتے ہیں جس میچ میں آپ پٹیشنر بھی نہیں ہیں، جو میچ آپ نے کھیلنا ہی نہیں ہے آپ وہ کپ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نےکہاکہ آپ ا پنے کیسز کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی والے مار سیگل کا بھی بتائیں، این آر او لینے کیلئے قوم کا ساٹھ لاکھ ڈالر مار سیگل اینڈ ایسوسی ایشن کو نوازا گیا، یہ مار سیگل کی جمع کرائی گئی سٹیٹمنٹ بتا رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)یو کے اور یو ایس اے کے اندر رجسٹرڈ ہے، یہ اپنا حساب کبدینگے،ان کی ابتداء فارن فنڈنگ سے ہے، خالد خواجہ کی بیوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے دس ملین ڈالر اسامہ سے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف استعمال کر نے کیلئے لئے تھے،اس حوالے سے بے نظیر شہید کے بے شمار انٹرویوز ہیں، قاضی حسین احمد کا انٹرویو موجود ہے، یہ کس منہ سے فارن فنڈنگ کیس کی بات کرتے ہیں، انکوجواب دینا پڑے گا اور ان کو راہ فرار اختیار نہیں کر نے دینگے، یہ اپنا حساب لیکر آئیں تاکہ قوم کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ایک سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی پی ٹی آئی کو سوالات کا محور بنانے کی بجائے دیگر جماعتوں کو بھی اس میں شامل کریں،سب کو جوابدہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کچھخاص ممالک ہمارے ملک، ہمارے اداروں، ہماری جمہوریت اور جمہوری سسٹم کو سبوتاژ کر نا چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں قومی مفادکا پورا تحفظ کرینگے۔ پی ڈی ایم کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ جلسوں، جلوس، استعفوں کی دھمکیاں دی گئی، استعفے کدھر گئے، تاریخوں پرتاریخیں دی جارہی تھیں، تحریک کیوں ناکام ہوئی اس پر قصے لکھے جائیں گے، تحریک اس لئے ناکام ہوئی ہے کہ پاکستان کے لوگ کرپٹ کو ہٹانے کیلئے آتے ہیں، وہکرپٹ سیاستدانوں کی حمایت میں کبھی نہیں آتے ہیں، عوام کی جانب سے ان کو پذیرائی نہیں ملی،ہمیں ان سے کوئی پریشانی نہیں ہے، اپوزیشن والے ایکسپوز ہوگئے ہیں، وہ ذاتی مفادات کیلئے نکلے تھے، یہ صرف اپنے آپ کو بچانے کیلئے حکومت پر پریشر ڈال رہے ہیں،الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج پر ہزیمت، ناکامی اور رسوائی کا سامنا کر نا پڑیگا، حکومت بالکل سکون میں ہے،تحریک کا انجام خود دیکھ لیا ہے اور یہ مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے جو کامیاب نہیں ہوگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎