اسامہ ستّی کیس ، شیخ رشید احمد نےنئےآئی جی اسلا م آباد کو عہدہ سنبھالتے ہی خصوصی ٹاسک سونپ دیا

  اتوار‬‮ 10 جنوری‬‮ 2021  |  20:53

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارلحکومت میں بڑھتے ہوئے کرائم اور امن و عامہ کے لیے وفاقی وزیر داخلہ سے نئے آئی جی اسلا م آباد کی اہم ملاقات ہوئی ہے ،وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے آئی جی قاضی جمیل الرحمن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کے ساتھ ایک خصوصی ٹاسک بھی دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک ماہ کے اندر مثبت نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے،اسلام آباد کو منشیات سے پاک کرنے کاخصوصی ٹاسک دیا گیا،قبضہ مافیا کے خلاف بھی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی،گزشتہ روز وزیر داخلہ سے ہونیوالی ملاقات میں آئی جی


نے اسلام آباد سے جرائم کو جڑ سے اکھاڑنے کا عندیہ دیا اور وعدہ کیا کہ بہت جلد اس کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے،اس موقع پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے لیے نئی گاڑیا ں بھی لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وفاقی دارلحکومت کی پولیس مثالی اور پیشہ وارانہ ہو،اسامہ ستی کے قتل پر وزیر داخلہ نے دوٹوک کہا کہ ایسے واقعات کی گنجائش نہیں اور یہ واقعہ اندوہناک ہے ،کرپشن ،قبضہ مافیا کی پشت پناہی،منشیات فروشوں سے تعلقات کے حوالہ سے زیرو ٹالرنس ہے،ایسے واقعات میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اصلاحات لانے کے لیے آئی جی نے وزیر داخلہ کو کچھ اہم مشاورت بھی کی اور وزیر داخلہ نے اس عمل پر فوری کام کرنے کی ہدایت کی ہے ،دوسری جانب وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی پولیس کی رہائشی سہولیات سے متعلق بھی جلد خوشخبری دیں گے اور انکی خواہش ہے کہ وفاقی پولیس کو ذاتی مسائل سے بے نیاز ہو تاکہ انکی توجہ عام شہریوں کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہو،۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎