منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

ہم جھوٹی حکومت کے قیام پر اسٹیبلشمنٹ کو مجرم سمجھتے ہیں،عمران خان صرف ایک مہرہ ، ہماری تنقید کا رخ برملا کون ہو گا؟پی ڈی ایم سربراہ نے واضح کر دیا

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد میں ابھی وقت ہے او راس میں حصہ لینے یا نہ لینے بارے بعد میں فیصلہ کیاجائیگا، وزیر اعظم کے پاس مستعفی ہونے کیلئے 31جنوری تک کی مہلت ہے او راگر وہ مستعفی نہیں ہوتے تو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلا کر لانگ مارچ کی

حتمی تاریخ کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا جائے گا کہ ہمارا رخ اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف ہوگا، 19جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا اور اس کے بعد نیب دفاتر کے باہر بھی احتجاجی مظاہرے کرنے کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا، اسٹیبلشمنٹ نے سارے نظام کو یر غمال بنایا ہوا ہے او رعمران خان صر ف ایک مہرہ ہے، ہم جھوٹی حکومت کے قیام پر اسٹیبلشمنٹ کو مجرم سمجھتے ہیں، تنقید کا رخ بر ملا ان کی طرف ہوگا اور اب ان پر منحصر ہے کہ وہ سیاست پر اپنے پنجے گاڑھتے ہیں یا اس سے دستبردار ہو کر آپنی آئینی ذمہ داریوں کی طرف جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے اپنی زیر صدار ت جاتی امراء رائے ونڈ میں سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مریم نواز، راجہ پرویز اشرف، احسن اقبال، میاں افتخار سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں چلائی جاتی ہیں لیکن میں واضح کرنا چا ہتا ہوں کہ یہ افواہیں ہیں جو دم توڑ چکی ہیں، آج کے اجلاس میں پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آئی ہے اور ناجائز حکومت سے جان خلاصی کے لئے پہلے سے زیادہ پر عزم نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کے استعفے اپنی اپنی قیادت تک پہنچ چکے ہیں

اور اجلاس میں اس کی رپورٹ پیش کی گئی ہے او راس طرح پہلا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس 31جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت ہے، اگر مقررہ مدت تک فیصلہ نہیں کیا جاتا تو پھر پی ڈی ایم کی قیادت فوری طو رپر بیٹھ کر لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی تاریخ کا تعین کر ے گی اور اس بات کا بھی فیصلہ ہوگا کہ رخ اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سارے نظام کو یر غمال بنایا ہوا ہے او رعمران خان صر ف ایک مہرہ ہے، جنہوں نے دھاندلی کی اور قومی پر جھوٹی حکومت کو مسلط کیا ہم واضح کر دینا چا ہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس کا مجرم سمجھتے ہیں اور بر ملا تنقید ہوگی۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…