پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

6 ارب 61 کروڑ کا میگا سکینڈل بے نقاب

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

لاہو ر(این این آئی) اینٹی کرپشن پنجاب کی تحقیقاتی ٹیم نے 6 ارب 61 کروڑ کا میگا سکینڈل بے نقاب کر دیا۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق وائس چانسلرز کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ گزشتہ دس سالوں میں 4554 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس نے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے چار رکنی

جے آئی ٹی بنائی تھی۔اینٹی کرپشن جے آئی ٹی نے ہوشربا کرپشن کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو پیش کر دی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے گورنر پنجاب/ چانسلر کو ملوث تمام وی سیز کے خلاف فورا قانونی کاروائی کرنے کے لئے مراسلہ لکھ دیا ۔ پنجاب کی 12 بڑی جامعات میں بغیر اشتہارات ، یونیورسٹی ایکٹ، سروس لا ، ریکروٹمنٹ پالیسی کو نظر انداز کر کے بھرتیاں کی گئیں۔ سفارش،ذاتی پسند، اقربا پروری، میرٹ اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کرکے ہزاروں غیر قانونی بھرتیاں کرکے سرکاری خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہاگیا کہ گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک 3138 غیرقانونی بھرتیاں کی گئیں۔ گریڈ 17یا سترہ سے اوپر کی نشستوں پر 1416 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔سرگودھا یونیورسٹی 10099غیرقانونی بھرتیوں کے ساتھ سرفہرست رہی۔ پنجاب یونیورسٹی میں 689 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں 789 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں 209 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں 540 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ جی سی یونیورسٹی لاہور میں 136 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائینسز میں 310 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ یو ای ٹی لاہور میں 15 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ دیگر یونیورسٹوں میں فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی 524، خواجہ فرید انجئرنگ یونیورسٹی رحیم یار خان 98 , وویمن یونیورسٹی ملتان میں 784 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…