پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

نجی اسکولوں کی لوٹ مار کے خلاف والدین کی تنظیم سپریم کورٹ پہنچ گئی

datetime 30  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) اسٹوڈنٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان نے نجی اسکولوں کی لوٹ مار اور ظلم کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو 13 نکات پر مبنی سوموٹو ایکشن کے لیے درخواست دے دی اور کہا ہے کہ حکم کے باوجود اسکول کھلے ہیں اور ڈرا دھمکا کر زائد فیسیں وصول کی جارہی ہیں۔ی

ہ بات والدین نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین اسٹوڈنٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان ندیم مرزا نے کہاکہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کی بندش کے احکامات کے باوجود پورے پاکستان میں اسکول کھلے ہیں، بغیر یونیفارم کے بچوں کو پچھلے دروازے سے اسکول بلا کر بچوں کو کیا نفسیاتی تعلیم دی جارہی ہے؟ وزرائے تعلیم نے حکومتی رٹ کو مذاق بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول مالکان کی ملی بھگت سے والدین کو لوٹا جا رہا ہے، پرائیویٹ اسکول مالکان کھلم کھلا حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، وزرائے تعلیم بتائیں کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزیوں پر اسکول مالکان پر کتنی ایف آئی آر کاٹی گئیں؟ بند اسکولوں کی پوری فیسیں اضافے کے ساتھ وصول کرنے کے لیے پرائیویٹ اسکول مالکان ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ندیم مرزا نے کہا کہ طلبا کے والدین اس وقت شدید ذہنی اذیت میں ہیں، کورونا کی نئی قسم بچوں کو بھی متاثر کررہی ہے، کورونا کے خاتمے تک اسکول نہ کھولے جائیں، مارچ 2020 سے مارچ 2021 تک کی فیسیں سو فیصد نہیں لی جائیں، حکومت اسکول مالکان سے والدین کو ڈرا دھمکا کر وصول کی جانے والی تمام فیسوں کی واپسی کو یقینی بنائیں۔اس موقع پر ان کے ہمراہ موجود ایڈووکیٹ ناصر رضوان نے کہاکہ والدین کی داد رسی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو 13 نکات پر مبنی سوموٹو ایکشن کے لیے درخواست دے دی ہے، بند اسکولوں کی فیسوں کی ادائیگی پاکستان کے ہر گھر کا مسئلہ ہے، چیف جسٹس پاکستان فوری طور پر سوموٹو ایکشن لیں، والدین کی داد رسی کریں، ہماری جدوجہد تعلیم کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…