ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کی اصل کہانی ہے کیا؟ سروے آف پاکستان کی رپورٹ میں اہم انکشافات سب کچھ واضح ہوگیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد کا ماسٹر پلان 1960 میں بنا ، اسلام آباد کا کل رقبہ 906 مربع کلومیٹر ہے، اسلام آباد کو 1992 میں پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا، زون ون سب سے بڑا ڈویلپڈ رہائشی علاقہ ہے جس میں اسلام آباد کا ریڈ زون ، سیکٹر ڈی ، ای ، ایف ، جی ، ایچ اور آئی شامل ہیں۔

زون ٹو میں ترنول کی جانب کے علاقے جبکہ زون فائیو میں روات کی جانب کے علاقے شامل ہیں، زون تھری اسلام آباد نیشنل پارکس کا علاقہ قرار پایا جس میں نجی تعمیرات کی کوئی گنجائش نہیں، یہ زون مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا مری کے قریب جا پہنچتا ہے۔اسلام آباد کا دیہی علاقہ زون فور میں شامل ہے۔ یہ مری روڈ اور لہتراڑ روڈ کا درمیانی علاقہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سملی روڈ تک کا علاقہ بھی اس زون میں شامل ہے۔ اس زون میں صرف فارم ہائوسز تعمیر کرنے کی اجازت تھی مگر 2010 میں جاری ہونے والے ریگولیشنز کے تحت زون فور میں فارم ہائوسز کے علاوہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں کی اجازت مل گئی۔لیکن یاد رہے اسلام آباد کے اس دیہی علاقے میں 2019 تک بلڈنگ ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زون میں ہزاروں بلکہ لاکھوں گھر نجی زمینوں پر تعمیر ہوتے رہے۔ یہاں سرکاری زمین یا ایکوائرڈ لینڈ نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہاں بغیر کسی قانون کی موجودگی کے مکان تعمیر ہوتے رہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا گھر بھی اسی زون میں تعمیر ہوا۔اسلام آباد کا زون تھری اور زون فور ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ بنی گالہ کا علاقہ بھی انہی دونوں زونز میں آتا ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا گھر کس زون میں شامل ہے۔ سرکاری دستاویزات کے

مطابق عمران خان کا گھر موضع موہڑہ نور میں ہے۔ یہ علاقہ بنی گالا کا وہ حصہ ہے جو زون تھری سے باہر ہے۔ سروے آف پاکستان کے مطابق عمران خان کی رہائشگاہ زون فور میں آتی ہے اور یہ جگہ زون تھری ختم ہونے کے چھ سو میٹر کے بعد آتی ہے۔ زون فور میں نجی مکانات بنانا غیرقانونی

نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائش گاہ بھی غیر قانونی جگہ پر نہیں تھی۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ اس علاقے میں بلڈنگ کے قوانین ہی موجود نہ تھے۔ یہ قوانین 2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں بنائے گئے۔عدالتی حکم کے بعد قوانین اور ریگولیشنز بننے

سے پہلے تعمیر ہونے والی رہائش گاہوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے ایک فیس مقرر کی گئی جو زون فور کے تمام رہائشیوں پر لاگو ہو گی۔عمران خان نے قانون کی پابندی کرتے ہوئے اسی فیس کے تحت 12 لاکھ روپے سی ڈی اے کو جمع کرائے اور قانونی جگہ پر موجود عمارت کو

ریگولرائز کرایا۔عمران خان کی رہائش گاہ سمیت ہزاروں رہائش گاہیں ایک ایسے وقت میں بنیں جب دارالحکومت کے دیہی علاقے کے بلڈنگ بائی لاز موجود ہی نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعمیرات کو غیر قانونی کہنا غلط ہے۔ اب بائی لاز بن چکے ہیں اور اس زون میں موجود عمارتوں کی ریگولرائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…