جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

اردو زبان کے بعد پنجابیوں کی توہین لیکن محمود اچکزئی کو ٹوکنے و الا کوئی بھی نہیں، سینئر صحافی کامران خان پھٹ پڑے

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے لاہور جلسے میں پنجابیوں سے متعلق دیئے گئے بیان نے جس بحث کو چھیڑا ہے اس سے تعصب اور لسانیت کی بدبو آتی ہے جو کہ ملکی سیاست کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں اور نہ ہی اس کا

انہیں کوئی فائدہ پہنچنے والا ہے البتہ وہ اس سے ملکی عوام کا نقصان ضرور کر رہے ہیں۔سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے محمود خان اچکزئی کے بیان سے متعلق کہا کہ انہوں نے جو بیان دیا اور جس پلیٹ فارم کا انتخاب کیا وہ دونوں غلط تھے اور اب ان کو مقتدر حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ ان کو تاریخی معاملات کو اس طرح موضوع بحث بنانے سے پہلے سوچنا چاہیے۔کامران خان نے کہا کہ اس سے قبل بھی وہ کراچی جلسے میں اردو زبان کے خلاف بول چکے ہیں کہ وہ اردو کو قومی زبان نہیں مانتے مگر وہ یہ سب گفتگو بھی اردو میں ہی کر رہے تھے پھر ان کا یہ تعصب کس کام کا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنما سٹیج پر موجود ہوتے ہیں مگر کیا کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ محمود اچکزئی کو ایسے تعصبانہ بیانات دینے اور ہرزہ سرائی سے روک سکے؟انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی کے اس بیان کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسے ٹرینڈز سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانیوں نے ان کے اس بیان کو بالکل پسند نہیں کیا۔اس حوالے سے انہوں نے مجیب الرحمان شامی کا حوالہ دیا جن کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نے غلط بات کی اور حقائق کو اپنی مرضی سے مسخ کیا جو کہ غلط بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…