جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

لیگی ایم این اے اور ایم پی اے اگر 500، 500آدمی بھی لاتے تو اس طرح سٹیج خالی نہ ہوتا ،جلسہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیدیا گیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پی ڈی ایم کے لاہور جلسہ کو مکمل طورپر ناکام قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دو ماہ سے جلسے کیلئے کمپین چلائی جارہی تھی ، جلسہ مجھے متاثر نہیں کر سکا ،جلسہ بہت بڑا سکیورٹی رسک تھا ، پاکستان کے اندر انتشار پیدا کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس حوالے سے سب سیاستدانوں کو ملکر کام کر چاہیے ۔ اتوار کو

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ جلسے سے میں کوئی اتنا متاثر نہیں ہوا ،سچ کہتا ہوں جتنی انہوںنے دو ماہ تک کمپین چلائی کہ آر پار ہو جائے گا اور تاریخ بدل جائیگی اتنا بڑا جلسہ نہیں کر سکے ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے مینار پاکستان پر نوازشریف اور عمران خان کے جلسے دیکھے ہیں، یہ کوئی میچ نہیں تھا ، یہ ایک نا مکمل جلسہ ہے اور لاہور کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن)کے تیرہ ایم این اے اور تیس سے چالیس ایم پی اے اگر 500ٗ 500آدمی بھی لاتے تو اس طرح سٹیج خالی نہ ہوتا ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ہم نے 25فیصد مینار پاکستان کی سکینگ کی ہے ، دو ماہ سے کہہ رہے تھے کہ تاریخ بدل دیگا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ملتان میں قاسم باغ میں جلسہ کر نے دیتے تو یہ ایکسپوز ہو جاتے ، گھنٹہ گھر ایک چھوٹا سا چوک ہے وہاں انہوںنے اپنی سیاسی عزت بچائی ، جتنی انہوںنے ہوا اور سیاسی طورپر ادھم مچایا ہوا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو جائیگا ان کی بات نہیں بنی ، مینارپاکستان کا ہر طرح سے یہ سب سے کم ترین جلسہ تھا ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جب بے نظیر بھٹو پشاور میں گئیں تو وہاں دو بلٹ پروف جیکٹیں ملیںاس کے بعد ان کے لوگوں کو بلایاگیا تھا کہ آپ پنڈی کا جلسہ نہ کریں ، ہماری بات نہیں مانی اور بے نظیر شہید ہوئیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سب لوگوں کو الرٹ جاری کیا ہے کیونکہ ملک کے اندر خلفشار اور انتشار کا شکار کر نے کی کوشش

کی جارہی ہے اس حوالے سے سب سیاستدانوں کو ملکر کام کر ناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جو کچھ ہلر بازی ٹی وی پر دیکھی ہے اور یہ جلسہ بہت بڑا سکیورٹی رسک تھا اور جتنی بد نظمی اس جلسے میں دیکھی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی ، جتنی بڑی اس کی تیاری تھی وہ اتنا جلسہ نہیں تھا اور یہ ایک ناکام جلسہ تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…