اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سوئی گیس کمپنیوں کا ٹیکسٹائل ملوں اور سی این جی سٹیشنوں کے 50 ارب کے بقایا جات عوام کی جیبوں سے نکالنے کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آ ن لائن) سوئی نادرن گیس کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی دونوں کمپنیوں نے ٹیکسٹائل ملوں اور سی این جی سٹیشنوں سے 50 ارب روپے کی بقایا جات وصول کرنے کے بجائے کمپنی خسارہ میں ظاہر کر کے عوام سے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔دونوں گیس کمپنیوں نے ٹیکس کی قیمتوں میں اضافے کے لئے اوگرا میں پٹیشن دائر کر رکھی تھی جبکہ کمپنی خسارہ

میں بقایاجات کے عدم وصولی کے اربوں روپے ظاہر کر دیئے ہیں ۔ذرائع سے ملنے والی دستاویزات میں معلوم ہوا ہے کہ سوئی ناردرن کمپنی نے ٹیکسٹائل ملوں سے پانچ ارب جبکہ سی این جی سٹیشن چار مالکان سے 10 ارب سے زائد وصول کرنا تھے جو ابھی تک وصول نہیں کر سکی ۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لئے عدم وصولی کے اربوں سے اپنے خسارہ میں ظاہر کر دیئے ہیں اور اربوں روپے سے عوام کی جیبوں سے وصول کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور یہ وصولی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے وصول کرے گا ۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے بھی سی این جی سٹیشنوں کے مالکان اور مل مالکان سے اربوں روپے کے وصول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور یہ واجبات خسارہ میں ظاہر کئے جارہے ہیں۔دستاویزات کے مطابق سوئی سدرن نے ابھی تک کے الیکٹرک، پاکستان سٹیل ملز اور کراچی واٹر بورڈ سے 130 ارب روپے وصول نہیں کر سکی جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی جام شورو پاور کمپنی سے بھی ایک ارب17 کروڑ روپے وصول نہیں کر سکی ،وزیر اعظم عمران خان کو اس پورے معاملہ سے بے خبر رکھا جارہا ہے اورگیس مافیا اورحکام کے ساتھ ملکر غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا مکمل پروگرام بنا رکھا ہے ۔اگر دونوں گیس کمپنیاں اپنی اربوں روپے کی وصولی کرلیں تو ان کمپنیوں کا خسارہ بہت کم ہو سکتی ہے جس سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی باقی نہیں رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…