اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

مسلم لیگ یہاں تک اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہے، چوہدری نثار بھی پھٹ پڑے

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان مسلم لیگ کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے پارٹی کو مشکل کی گھڑی سے نکالنے کے لیے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹکراؤ کی سیاست مسلم لیگ کا حصہ نہیں،محمود خان اچکزئی کو پارٹی سے کوسوں میل دور ہونا چاہیے،ایسے اشخاص کا موقف مسلم لیگ کا نہیں ہو سکتا ہے،ڈان لیکس پر مریم نواز کا کردار سامنے نہیں اور دیگر شخصیات

کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا تو آج پارٹی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ ہی کئی ان کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیررسمی گفتگو میں کیا،چوہدری نثار علی خان نے سینیٹر پرویز رشید کا نام لیے بغیر اشارہ دیا کہ میاں نواز شریف کی گاڑی میں سوار رہنے والے شخص کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، مسلم لیگ نواز ہو یا شہباز یا کوئی اور مسلم لیگ ہو انکے ساتھ چلنے کو تیار ہوں لیکن ایسی مسلم لیگ قبول نہیں جس میں محمود اچکزئی ہوں یا انکے موقف کی تائید کی جا رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس میں مریم نواز کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دیگر کرداروں کو اگر بروقت سامنے رکھا جاتا تو گارنٹی سے کہتا ہوں کہ موجودہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا،پاک فوج قومی ادارہ ہے ہم سب کو انکی عزت وتکریم کے لیے کوشاں رہنا چاہیے حتیٰ کہ انکی اگر کہیں کوئی خامی ہے تو سیاسی جماعتوں کو وہ بھی اچھے انداز میں پیش کر کے سامنے لانا چاہیے،چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ٹکراؤ کی جماعت نہیں ہے اور جو موجودہ وقت ہے یہ مسلم لیگ کے کارکنوں کو امتحان میں ڈالنے والی بات ہے۔ محمود خان اچکزئی کو پارٹی سے کوسوں میل دور ہونا چاہیے،ایسے اشخاص کا موقف مسلم لیگ کا نہیں ہو سکتا ہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…