منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

جج قانون سے بالاتر نہیں ان کا بھی احتساب ضروری ہے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا اہم بیان

datetime 2  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ جج قانون سے بالاتر نہیں ان کا بھی احتساب ضروری ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سوشل میڈیا کے دور میں عدالتوں کی آزادی کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک جج کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے

مواد سے متاثر ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں، ایک جج کو کسی کے اثر، دبا، دھمکی یا مداخلت کے بغیر قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے، موثر انصاف کی فراہمی آزاد عدلیہ اور آزاد ججز کے بغیر تصور نہیں کی جا سکتی۔ جج قانون سے بالاتر نہیں ان کا بھی احتساب ضروری ہے،احتساب آزاد عدلیہ کے لئے اہم ستون ہے ،احتساب تب ہی موثر ہوگا جب وہ مخصوص اور ٹارگٹڈ نہ ہو بلکہ بلا امتیاز ہو ، بطور جج ہائیکورٹ آج تک کوئی مجھے تک رسائی حاصل نہیں کر سکا نہ کوئی مجھے دبا میں نہیں لا سکا ، میرا حلف مجھے اجازت نہیں دیتا کہ کسی کی مجھ تک رسائی ہو ،میرے بہت سے فیصلے ریاستی ستون انتظامیہ کے پسند کے نہیں تھے،پھر بھی کسی کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے میں کسی بھی دبائو میں آنے سے محفوظ رہا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں انسانی زندگیوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے، انصاف کا عمل اور ججز اس وقت منظم مہم کا نشانہ بنتے ہیں، جب سیاسی نوعیت کے مقدمات زیر سماعت ہوں، اس وقت معاملہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے ، جب فریقین میں کوئی سائل، ملزم یا متاثرہ فرد سیاسی حیثیت رکھتا ہو، جب سیاسی نوعیت کی کیسز زیر التوا ہوں تو سیاسی مخالفین سوشل میڈیا پر منظم انداز میں متحرک ہوتے ہیں، سیاسی مخالفین کا زیر سماعت مقدمات توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، سیاسی مقدمات میں جوڈیشل افسران اور عدالتی کارروائی پر

سوشل میڈیا کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے، عدالتی کارروائی کو جان بوجھ کر چلائی گئی مہم کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سوشل میڈیا مہم کا عدالتی فیصلوں پر اثر نہیں پڑتا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ فیصلے میں متاثرہ فریق جج اور عدلیہ کو منظم انداز میں متنازع بنانے کی کوشش کرتا ہے، سیاست زدہ ماحول میں عدالتوں کے سامنے چیلنجز مزید سخت ہوجاتے ہیں،

سوشل میڈیا کا غلط استعمال اصل سائلین کے انصاف کے حق کو متاثر کرتا ہے، میں اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے کی وجہ سے سوشل میڈیا کے اثرات سے محفوظ رہا، سوشل میڈیا پر مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا اور مہمات ہیں، سوشل میڈیا کی جھوٹی مہمات عدالت کو دبا میں لانے میں ناکام رہیں، ایک سیاسی شخصیت کے  حوالے

سے فیصلہ دینے پر میرے خلاف جھوٹی مہم چلائی گئی، سوشل میڈیا جھوٹی مہم میں الزام لگایا گیا کہ مجھے سیاسی شخص نے پراپرٹی تحفے میں دی، اتنے اعتماد کے ساتھ الزام لگایا گیا کہ جو لوگ مجھے نہیں جانتے انہوں نے یقین کرلیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ گزشتہ سال کیپ ٹائون، جنوبی افریقا میں کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا، ایک اسپورٹس کار کے ساتھ

تصویر بنوائی، وہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، سوشل میڈیا پر بتایا گیا کہ میں ایک سیاسی جماعت کے رکن کے ساتھ لندن میں موجود ہوں، کچھ ہی گھنٹوں بعد اہلیہ نے فون پر شک کا اظہار کیا کہ میں واقعی کیپ ٹائون میں موجود ہوں؟ سپریم کورٹ کے

ججز کے خلاف ٹویٹ کرنے پر توہین عدالت کارروائی شروع کرنے کی درخواست میں نے خارج کردی، سوشل میڈیا یا آزادی اظہار رائے پر قدغن کا بالکل حامی نہیں،عوام کی جانب سے نیک نیتی کی بنا پر کی گئی تنقید میں کوئی حرج نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…