ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

صوبائی دارالحکومت میں صفائی کا نظام درہم برہم ہو گیاصفائی کرنے والی کمپنی البراک کی مشینری جواب دے گئی

datetime 18  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )صوبائی دارالحکومت لاہور میںصفائی کا نظام درہم برہم ہو گیا، صفائی کرنے والی کمپنی البراک کی مشینری جواب دے گئی، شہر کی سڑکوں پر دس ہزار ٹن کوڑا پڑا ہے۔ ایل ڈبلیو ایم سی نے دعوی کیا ہے کہ کوڑا کرکٹ بروقت نہ اٹھانے پر البیراک کو نوٹس جاری کر دیئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق شمالی لاہور چائنہ سکیم، شاد باغ، بادامی باغ، حبیب اللہ روڈ، گڑھی شاہو ،میو ہسپتال روڈ، انار کلی، شاد مان اور اندرون شہر سمیت کئی مقامات پر گندگی کی نذر ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صفائی کمپنی البیراک آدھے شہر کی صفائی کی ذمہ دار ہے جس کے ساڑھے 4 ہزار کنٹینروں میں سے 1800 کنٹینرز فعال اور 2600 غائب ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایل ڈبلیو ایم سی کمپنی بورڈ نے 7 برسوں میں صفائی کنٹریکٹر کو 35 ارب روپے ادا کئے۔ صفائی کا عمل سست روی کا شکار ہونے پر گندگی کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ صفائی کیلئے مشینری اور انفرادی قوت کے ساتھ مزید 4 روز درکارہوں گے۔دوسری جانب ایل ڈبلیو ایم سی کا عملہ بھی موثر مانیٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے من مرضی سے ڈیوٹی کرتا ہے ۔ مرکزی شاہراہوںاور ان سے ملحقہ گلی محلے صاف کئے جاتے ہیں جبکہ باقی علاقوں میں صفائی نہ ہونے اور کوڑا کرکٹ نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے یہی کوڑا کرکٹ کی بندش کا باعث بن رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…