جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

“پاکستانی جمہوریت کی تعریف کیا ہے فلاں کی بیٹی، فلاں کا بیٹا، فلاں کا پوتا ،فلاں کا نواسہ، وراثت میں منتقل ہونے والی جمہوریت۔۔ ایسی جمہوریت پر میں تین بار لعنت بھیجتا ہوں”،بیرسٹر سیف‎

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینٹ اجلاس میں بیرسٹر سیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر پاک فوج پر تنقید کی گئی کہا گیا کہ پرویز مشرف موت کا انتظار کر رہا ہے ۔ میں صرف یہ پوچھتا ہوں کیا پوری دنیا میں صرف پرویز مشرف موت کا انتظار کر رہے ہیں ہمیں موت نہیں آنی ، کیا ہم سب جو یہاں موجود ہیں ہمیں موت نہیں آنی ؟ ہم سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ موت تو برحق ہے

وہ ہر حال میں آ کر رہے گی ، مشرف صاحب کا جب وقت آئے گا تو وہ بھی دنیا فانی سے انتقال کر جائیں گے جب ہمارا وقت آئے گا تو ہم نے بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ پرویز مشرف نے جب تک اس کے ہاتھ میں طاقت تھی اس نے دبنگ طریقے سے کام کیے ، غلط یا صحیح کا فیصلہ اللہ پاک نے کرنا ہے ۔ یا اس دنیا کی عدالتیں کریں گے ، دنیا کی ایک عدالت نے ان کیخلاف فیصلہ سنا کر چوک میں لٹکانے کا حکم دیا لیکن کیا ہوا وہ آج بھی اپنی والدہ کیساتھ دبئی میں موجود ہیں ، کسی نے پرویز مشرف کا کیا بگاڑ لیا ۔ لیکن ایسی باتیں کرنا وہ موت کا انتظار کر رہا ہے اللہ پاک کو ناراض کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ بیرسٹر سیف نے مولا بخش چانڈیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے افواج پاکستان کے بارے میں بات کی کہ فلاں جنرل نے خواب ، فلاں نے فلاں خواب دیکھا ۔ پھر آپ نے کہا کہ انسان دعا مانگتا ہے اس وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے ۔ ہر آج اس وقت قبولیت کا وقت ہے تو میں آج یہاں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میری اور میری نسلوں کی ہزاروں جانیں پاکستان پر قربان کرے ۔ اس ملک سے مجھے اتنی ہی محبت ہے جتنی پاکستان کی فوج کے ہر سپاہی ہر افسر کو جو سرحدوں پر شہید ہو رہے ہیں ۔ جو سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں جن کی عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں، جن کو پوچھنے

والاکوئی نہیں ہے ۔ جو بموں اور گولیوں کے آگے رکتے ہیں ، سینے اپنے آفر کرتے ہیں ، خون کے تمخے ان کی چھاتیوں پر لگتے ہیں ۔ ان کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں نہیں ہوتیں ۔ ان کے پاس بم پروف گاڑیاں نہیں ہوتی ۔ آج بڑے فخر سے یہاں یہ کہا گیا ، بار بار کہا گیا ، قوم کی بیٹی ، بم پروف گاڑی ۔ بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ الفاظ سن کر شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں جب میں اس حال میں جمہوریت کی

بات کرتا ہوں ، جب میں جمہوریت کے نعرے سنتا ہوں ۔جب میں دیکھتا ہوں کہ جمہوریت کی تعریف کیا ہے ، فلاں کی بیٹی ، فلاں کا بیٹا ، فلاں کا پوتا ، فلاں کا نواسہ ، یہ میری جمہوریت ہے ۔ یہ ہماری جمہوریت ، اگر یہ جمہوریت ہے تو میں ایک بار نہیں ، دو بار نہیں تین بار لعنت بھیجتا ہوں ایسی جمہوریت پر ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…