راج ناتھ سنگھ،اجیت دول،امیت شاہ کے چہروں پر پاکستان کے لیے نفرت، مودی کو اگر موقع ملا تو وہ پاکستان کے حصے کا پانی بھی بند کرے گا،کشمیر کے چاروں اطراف چار ایٹمی قوتیں موجود ہیں،مودی دنیا کا گھٹیا ترین آدمی قرار

  جمعرات‬‮ 6 اگست‬‮ 2020  |  0:05

اسلام آباد (این این آئی) اراکین سینٹ نے کہا ہے کہ پاکستان نے نقشہ جاری کر دیا ہے امید ہے کشمیری بھی یہی چاہیں گے ،کشمیر میں استصواب رائے کے لئے اقوام متحدہ پر زور دیا جاتا رہے گا،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دنیا کا گھٹیا ترین آدمی ہے دنیا مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم پر کیوں خاموش ہے ؟کشمیری کب تک ظلم سہتے رہیں گے ہندستان کی چیرادستیوں کو کون روکے گا۔بدھ کو سینیٹ کےخصوصی اجلاس کشمیر کے حوالے سے تحریک مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پیش کی ۔ تحریک میں کہاگیاکہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں


کی خلاف ورزی کر رہا ہے،مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کے لیے بھارتی آئین میں ترمیم ہوئی، قابض بھارتی افواج ایک سال سے کشمیریوں کی غیر معمولی نسل کشی میں مصروف ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں جاری ہیں،مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن سمیت تمام مسائل پر بحث کی جائے۔ بابر اعوان نے کہاکہ کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار پر سینیٹ کا شکر گزار ہوں،عالمی برادری اور ادارے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر خاموش ہے ، آج کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر جانے والے ان تمام راستے شاہراہ سری نگر سے جائیں گے۔ شیری رحمان نے خطاب کرتے ہئوے کہاکہ او آئی سی کا کیا درجہ رہا اْس پر سب بات کرچکے ہیں،ہم جب پیغام دیتے ہیں کہ نقشہ جاری کر دیا لیکن کشمیر کے لوگوں کو آگاہ بھی کریں،جب ہم نقشہ جاری کرتے ہیں ہم امید کرتے ہیں کشمیر یہ ہی چاہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال کشمیریوں کے لیے انتہائی مشکلات کا سال رہا،کرفیو کے علاوہ کووڈ کی وجہ سے وہ ہسپتال تک نہ جاسکے،ایک سال سے انڈیا کے میڈیا کی آواز بھی بند کروا دی گئی ہے،بھارت نے کووڈ کی آڑ میں کشمیر میں میڈیا پر قدغنیں لگا دیں گئیں،آج وہاں رام مندر کے افتتاح میں پوجا کرنے جارہے ہیںجہاں آر ایس ایس کے سب لوگ جائیں گے،کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے،مندر اب مسجد کے اوپر بنایا جارہا ہے ،ان کے سب اداروں سب کورٹس نے اس معاملے میں خاموشی دکھائی ہے ۔ شیری رحمن نے کہاکہ انہوں نے اپنے منشور میں کہا تھا ہم یہ سٹیٹس ہٹائیں گے ،کشمیر پاکستان بن کر رہے گا،کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے،کشمیر میں میڈیا کا گلا بھی گھونٹا گیا،بھارت نے کشمیری رہنماوں کوگرفتار کر رکھا ہے،بے نام کشمیریوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں ،کشمیر میں استصواب رائے کے لئے اقوام متحدہ پر زور دیا جاتا رہے گا۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دنیا کا گھٹیا ترین آدمی ہے دنیا مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم پر کیوں خاموش ہے ،پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کی بات کی کشمیریوں پر لاک ڈاون کو ایک سال مکمل ہورہا ہے ،مقبوضہ کشمیر کی آبادی کو سازشکے تحت تبدیل کیا جارہا ہے ،کشمیری کب تک ظلم سہتے رہیں گے ہندستان کی چیرادستیوں کو کون روکے گا کشمیری شہدا کے لیے ایک منٹ کی خاموشی نہیں بلکہ دعا کی جائے کشمیر پر خاموشی نہیں اواز بلند کرنی چاھیے ،ایوان میں خوشی میں پھول نہیں بلکہ افسوس کرنا چاھیے ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ ایوان میں خوشی کے پھول ہیں مایوسی کی بات کرکے خبریں نہ بنوائیں چیئرمین۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ نقشےمیں ڈالنے سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ اعظم سواتی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں کشمیر کی قرارداد کے ساتھ کھڑے ہیں،1948 والی اس قرارداد کے ساتھ کشمیر کے مسلے کے حل تک کھڑے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ آج تاریخی دن بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے،آج لندن، ہیوسٹن، امریکہ سمیت ہر جگہ سے لوگ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں،دنیا کے لیڈروں کو جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہوں،کشمیریوں کی قربانیوںکو دیکھو، ساتھ دو،کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ آج تاریخی دن ہے جو کشمیر کی یاد دلا رہا ہے مودی نے اپنے آئین کو توڑا ،بھارت کا جھوٹا جمہوری چہرہ بے نقاب ہو گیا ،انڈیا پاکستان کے خلاف سازش کررہا ہے ،کبھی ایف اے ٹی ایف لے آتا ہے تو کبھی کچھ اور لے آتا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،انڈیا نے اعلان کیا ہم پاکستان کا پانی بند کریں گے،مودی کو اگر موقع ملا تووہ پاکستان کے حصے کا پانی بھی بند کرے گا،کشمیر کے چاروں اطراف چار ایٹمی قوتیں موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر اقوام متحدہ نے مسئلہ حل نہ کیا تو کسی بھی وقت اس علاقے میں ایٹمی جنگ شروع ہوسکتی ہے،72 سال میں کشمیریوں نے جو جدوجہد کی انسانی تاریخ میں اس کی مثال کم ملتی ہے،آزادی کی خاطر کشمیریوں نے اوسط چار شہید قربان کیے ہیں،بدقسمتی ہے انڈیا پر ایسے شخص کی حکمرانی ہے جسے دنیا پاگل آدمیسمجھتی ہے،گجرات میں اس آدمی نے 3 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا،اس شخص کی جانب سے آج بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی جارہی ہے،مودی سے ہر چیز کی توقع کیا جاسکتی ہے،اس شخص نے بنگلہ دیش کے دورے میں بے شرمی سے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا،ایسے شخص کے بارے میں یہ سوچنا کہ اس سے بات ہوسکتی ہے یہ ناممکن ہے،عمران خان نے اعلان کیا کہ جو بھی ایل او سی کیطرف جائے گا غدار ہوگا،عمران خان کے اس اعلان کے بعد کشمیری نوجوانوں کو مایوسی ہوئی۔ سراج الحق نے کہاکہ کشمیر کیلئے آج انتہائی اہم دن ہے،پاکستان کی ہریالی، زراعت کشمیری کی آزادی سے منسلک ہے،کشمیر کے زریعے بھارت ہمارا پانی روک رہا ہے،مودی نے الیکشن کے دو وعدے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر اور مقبوضہ کشمیر کا بھارت میں ضم پورے کر دئیے ہیںجبکہ تیسرا وعدہ آزاد کشمیر پر بھارتی قبضہ باقی ہے،آج ہماری حکومت کر کیا رہی ہے؟،جنرل گریسی نے بھی پابندی لگائی تھی کہ کشمیر کے باڈر کے قریب ملک کے باقی علاقوں کے لوگ نہ جائیں ،آج ہماری حکومت بھی جنرل گریسی والا کام کر رہی ہے،کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر رکھنا ہمیں منظور نہیں ہے،کشمیر ہائی وے کا نام دوبارہ بحال کیا جائے،کشمیر کاز اور نام سے ستر سال سے لگائو ہے،سری نگر کو کون جانتا ہے، ہم پورے کشمیر کیلئے لڑ رہے ہیں ،اگر کشمیر کیلئے نہ اٹھے تو تاریخہمیں معاف نہیں کرے گی۔اجلاس کے دور ان جے یو آئی کے سینیٹر غفور حیدری نے پھولوں کی سجاوٹ پر اعتراض اٹھا دیا ،آج ایوان میں سیاہ پرچم لہرائے جانے چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ جناب چیئرمین آپ کے سامنے پھولوں کے دستے کیوں پڑے ہیں ،کشمیریوں سے یکجہتی میں ہم پھولوں کے گلدستے لیکر بیٹھے ہیں ؟،پارلیمنٹ کے سامنے اور ایوان کے اندر سیاہ پرچم ہونے چاہئیں ،مجھے آج یہاں پھول دیکھ کر افسوس ہوا ہے ۔چیئرمین سینیٹ نےکہاکہ پھول تو غم اور خوشی دونوں میں ساتھ ہوتے ہیں ،یہ پھول کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے رکھے ہیں ،،آپ اس بات کو خبر نہ بنائیں،چیئرمین سینیٹ نے گلدستے ہٹانے کا غفور حیدری کا مطالبہ مسترد کردیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ دنیا میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا مْلک انڈیا ہے،لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہمیشہ انڈیا کی جانب سے کی جاتی ہے،5 اگست کو انڈین پارلیمنٹ کشمیر کے حوالے بِلپاس کرتی ہے،قانون پاس کرکے انڈیا کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی گئی،کشمیر میں مائیں اپنے بچوں کو نہیں مِل سکتیں عورتوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے،سیکورٹی کونسل کی جانب سے کشمیر کے تنازع کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا،اقوام متحدہ اس وقت انڈیا کی انسانی حقوق خلاف ورزیوں کو ڈھانپ رہی ہے،پاکستان کو کشمیر کے نمائندوں کے بات چیت کی اجازت دی جائے۔ انہوں نےکہاکہ کشمیر میں انٹرنیشنل پریس کو کوریج کرنے کی اجازت دی جائے،انڈیا کو قید کیے گئے تمام کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا،انڈیا کی جانب سے رہائشی علاقوں میں تمام افواج کو فی ْلْفور واپس بلایا جائے،تنازع کے حل تک کشمیر میں صرف املاک خریدنے کی اجازت وہاں کے شہریوں تک محدود رکھا جائے،یو این کی قردادوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے بین الاقوامی برادری کی اس معاملے پر توجہ مبزول کروائی جائے۔بیرسٹر محمد علی سیف نےکہاکہ کشمیر پر ہماری حکمت عملی ردعمل والی نہیں ہونی چاہئے،کشمیر کے مقدمے کیلئے سفارتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ،ہمیں پارلیمان کی سطح پر دنیا کے پارلیمنٹیرینز سے رابطے کرنے ہونگے،نوبل ایوارڈ دینے اور لینے والوں سے رابطے کئے جائیں،کشمیر کے معاملے پر دنیا کے مذہبی راہنماؤں سے رابطے کئے جائیں ،وار فئیر کی بجائے لا فئیر کے اصولوں پر عمل کیا جائے ،کشمیر کا کیس قانونی طور پر لڑا جائے ،حکومتنے پولیٹیکل نقشہ جاری کیا تاکہ دنیا کے سامنے اپنا موقف تحریری طور پر رکھ سکیں ،بھارت کشمیریوں کو نکال کر باہر سے لا کر آباد کاری کر رہا ہے،سینیٹر محمد علی سیف نے کالی پٹی اتار دی ،ہمیں کالی پٹیاں پہن کر احتجاج کرنے کی بجائے مودی کو یہ پٹیاں پہننے پر مجبور کرنا ہے۔ سینیٹر کیشو بائی نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کشمیر کے حوالے سے اس حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا،کشمیری خواتین کے پیارے سری نگر میں مودی کےمظالم برداشت کر رہے ہیں،ابھی پانی سر سے اوپر جاچکا, ریلی اور خاموشی سے آگے بڑھنا ہوگا،مودی ظالم کے خلاف پاکستان کی ساری ہندو کمیونٹی کھڑی ہے،ہندو کمیونٹی کا بچہ بچہ کشمیریوں کی آزادی تک ان کے ساتھ کھڑا ہے،ہم دنیا کو دکھائیں گے مودی نے جمہوریت کا ایک مکھوٹا پہنا ہوا ہے،پوری دنیا میں رہنے والے ہندو مودی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ کشمیر میں پہلے نو لاکھ فوج کو بھیجا گیا،بھارت کا کشمیر پر دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے ،تیرہ ہزار سے زائد سیاسی ورکرز اور گیارہ ہزار سے زائد خواتین قید ہیں ،خواتین کیساتھ ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ،کشمیر کو فلسطینی ماڈل پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے،پانچ اعشاریہ تین ارب ڈالر کا کشمیر میں معاشی نقصان ہوا ہے ،صدر مملکت نے معاشی نقصان سے متعلق درست اعداد شمار پیش نہیں کئے ،ہندوتوا کا یہ مکروہ چہرہ ہے ،مودی ،راج ناتھ ،امیت شاہ اوراجیت دوول پاکستان نے نفرت کرتے ہیں ،آر ایس ایس کے خلاف ہمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عالمی عدالت انصاف میں جانا ہو گا ،مودی قاتل ہے ،آر ایس ایس فاشسٹ گروہ ہے ،انڈیا کے چاہ بہار سے فارغ ہونے پر سی پیک گوادر پورٹ اور مغربی سرحد محفوظ ہو گئی ہے ،ہمیں متحرک کرداد اور حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ آج جہاں بابری مسجد تھی وہاں مندر بنایا جارہا ہے،آج ہی اسلام آباد میں بھی مندر بننا چاہیے،کشمیرپاکستان کا مسنگ ہے ،چین اب اس تنازعے میں براہ راست پارٹی بن چکا ہے،ایک سال میں 9 لاکھ افواج کی طرف سے اس علاقے پر قبضہ کیا گیا،انڈیا کی جانب سے ریپ کو جنگ کے ہتھیار کو استعمال کیا جارہا ہے،13680 اب تک سیاسی قیدی ہیں 11 ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی،2 ملین لوگوں کو باہر سے لایا گیا 4 لاکھ کو ڈومیسائل بھی دے دئیے گئے،آر ایس ایس کے 1 لاکھ خاص پراچک کو وہاں آباد کیا جارہا ہے،مودی ہندوتوا کا سبسے بدبودار چہرہ ہے،راج ناتھ سنگھ،اجیت دول،امیت شاہ کے چہروں پر پاکستان کے لیے نفرت ہے،ہمیں آر ایس ایس کو عدالت میں لیجانے کی ضرورت ہے،مشاہد حسین سید کی جانب سے کشمیر ایکشن پلان اجلاس میں پیش کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ اس وقت آپ پر انخصار کر رہا ہے ،انڈیا کی جانب سے ہائبرڈ وار فئیر کا آغاز کر دیا گیا ہے ہمیں بھی کرنی چاہیے۔مشاہد حسین نے کہاکہ شیری رحمان نے بہت اچھی تقریر کی ہے ،پاکستان میں جو نیشنلگورنمنٹ بننے جارہی ہے اس میں شیری رحمان کو اس میں وزیر خارجہ ہونا چاہئیے۔ رضا ربانی نے کہاکہ ایک کشمیری بچہ کی تصویر وائرل ہے، جو اپنے دادا کی لاش پر بیٹھا ہے، دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے،کشمیر میں بچوں پر پائلٹ گن کا استعمال دنیا نے دیکھا،میں نے اس پر ایک ناول لکھا جو دو ہفتوں تک آ رہا ہے ،پاکستان کا نیا نقشہ کا اعلان پارلیمنٹ سے ہونا چاہیے تھا،آج وزیراعظم سینیٹ سے نقشے کا اعلان کرتے تو اس کے اثراتکہیں زیادہ ہوتے ،پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے ،وزیراعظم کو پارلیمنٹ سے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا ،ہم اسلام آباد میں مندر کی تعمیر سے انڈیا کو بہتر طور پر ایکسپوز کر سکتے تھے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ جو قرض ہمارے اوپر کشمیر کا تھا ہم نے وہ ادا نہیں کیا ،مسلمانوں کے علاوہ جہاں کہیں ظلم ہوتا ہے، یورپ امریکہ سب کھڑے ہوجاتے ہیں،دنیا پرندوں جانوروں کے حقوق پر شور ڈالتیہے مگر کشمیری مسلمانوں پر خاموش،ہمیں اپنی یہ جنگ لڑنی ہوگی،مسلمان بہادری سے جنگ لڑتا ہے اور جتتا ہے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ کشمیریوں کا ہر طرح قتل ہو رہا ہے،کشمیریوں کا سیاسی، جانی، معاشی قتل ہو رہا ہے،کشمیریوں کی عصمت دری ہو رہی ہے،کشمیر پر دنیا کا ضمیر سویا ہوا ہے،انڈیا کی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے دنیا کشمیر کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے،کشمیر ہماری شہہ رگ سے زیادہ اہم ہے۔سینیٹر ستارہ ایازنے کہاکہ 70 سال سے کشمیری اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں،ہمارے سویلین بھی سری نگر تک پہنچ چکے تھے،آج کے دن بابری مسجد پر رام مندر بنایا جارہا ہے،اسی دن کشمیر یہ سب کیا گیا یہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے،کسی ایک مْلک کی بھی عوام کشمیر کے لیے باہر نہیں نکلی،یہاں مردہ ضمیروں کو جگانے کی ضرورت ہے،جب آیا صوفیہ کو ایک مسجد کے لیے کھولا گیا تو مسلمانوں نے کہا کہ عیسائیوں کی دلآزاری ہوئی لیکن رام مندر کی تعمیر پر اب کوئی بھی نہیں بول رہا،کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے جوانوں کو گولیاں ماری جاتی ہیں،سفارتی سطح پر ہم کمزور ہیں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ہم پر پابندیاں لگیں مودی پر نہیں لگائی گئیں۔مشاہد اللہ خان نے کہاکہ آج بہت بڑا دن کے کشمیر کے حوالے سے ،جو کچھ کشمیر میں 72 سالوں سے ہو رہا ہے خون کی لکیریں گہری ہوتی جا رہی ہیں،آج کے دن ہمیں ان 97 ہزار شہیدوں کو جو کشمیر کیآزادی کے اپنی جانیں اللہ کے سپرد کر چکے پیں،جنہوں نے کشمیر کے خون دیا ان کو خراج تحسین پیش کر تے ہیں،ان لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی مائیں بہنیں اور بیٹے کشمیر کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں،سات لاکھ فوج کشمیریوں پر روز ظلم کرتی ہے،بھارتی فوج کے قدم آگے ہی بڑہتے جا رہے ہیں،بچے کے آنسو اور خون بہت قیمتی ہیں،کون سے قومی لیڈر نے یہ بات کی کہ کشمیر کا نقشہ بدلیںمسئلے ایسے نہیں بلدینگے ان لوگوں کیمالی مدد کریں جن کے گھر والے جیلوں میں ہیں،سری نگر روڈ نام رکھ کے تختیاں تبدیل کر کے وارداتیں ڈالتے ہیں،یہ نام اس لیے بدلے کیوں کہ یہ سڑکیں نواز شریف نے بنائیں،۔ راجہ ظفر الحق نے کہاکہ رائے شماری کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی اور حل نہیں ،رائے شماری ہی مسئلہ کشمیر کا ایک پرامن جمہوری حل ہے ،شملہ معاہدہ میں بار نار اقوام متحدہ اور اس کی قراردادوں کا تذکرہ ہے ،لاہور ڈیکلریشن میں بھی کشمیر اور اقوام متحدہکی قراردادوں کا ذکر ہے۔راجہ ظفر الحق نے کہاکہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرنا ہے،حکمت عملی تبدیل کی تو دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا ،کشمیر پر جو موقف پہلے دن تھا اسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے ،پاکستان اور کشمیر کے اندر اب کوئی کنفیوژن پیدا نہیں کرنی چاہئے ،کشمیری خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں یہ ہی پرامن حل ہو گا۔سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ ایوان میں رکھے ہوئے پھولوں کے گلدستے سے شہدا کے خون کی خوشبو آرہی ہے ،سب سے بڑے جمہوریت کی دعویدار نے کشمیر کو جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ،مودی سربیا اور ہٹلر کی طرز پر کشمیریوں نسل کشی کر رہا ہے ،چیلنجز اچھے مواقعوں کو جنم دیتے ہیں ،پاکستان دنیا کے سامنے پر امن طور ملک نظر آیا ہے ،وزیراعظم نے جرات کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے اٹھایا ہے ،بھارت دنیا میں تنہائی کا شکار ہورہا ہے اور طرف سے سبکی ہورہی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم قدم ارطغرل کے مزار پر

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎