منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے، تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی حکومتی پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے، اپنی حکومت سے ہی جواب مانگ لیا

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے

انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے،کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں،کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا،کپاس مافیا،دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے،شوگر کپاس کی وکالت ختم کی جائے اور فصلوں کی زوننگ کی جائے،پنجاب حکومت نے 280ارب روپے دیکر کسانوں سے گندم کا دانہ دانہ خریدا،زرعی ترقیاتی بینک اب مافیا بن چکا ہے،یہاں صنعتوں کے اربوں روپے تو معاف کردئیے جاتے ہیں لیکن کسانوں کے 10 ہزار روپے معاف نہیں کئے جاتے،زرعی قرضے پر سود اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دو فیصد سود کیا جائے،زراعت پر قومی پالیسیاں بنائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو 7فیصد خوراک دینے والے سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے، کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں، کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا، کپاس مافیا، دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…