ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے، تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی حکومتی پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے، اپنی حکومت سے ہی جواب مانگ لیا

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے

انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے،کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں،کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا،کپاس مافیا،دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے،شوگر کپاس کی وکالت ختم کی جائے اور فصلوں کی زوننگ کی جائے،پنجاب حکومت نے 280ارب روپے دیکر کسانوں سے گندم کا دانہ دانہ خریدا،زرعی ترقیاتی بینک اب مافیا بن چکا ہے،یہاں صنعتوں کے اربوں روپے تو معاف کردئیے جاتے ہیں لیکن کسانوں کے 10 ہزار روپے معاف نہیں کئے جاتے،زرعی قرضے پر سود اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دو فیصد سود کیا جائے،زراعت پر قومی پالیسیاں بنائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو 7فیصد خوراک دینے والے سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے، کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں، کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا، کپاس مافیا، دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…