منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے، تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی حکومتی پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے، اپنی حکومت سے ہی جواب مانگ لیا

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے

انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے،کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں،کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا،کپاس مافیا،دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے،شوگر کپاس کی وکالت ختم کی جائے اور فصلوں کی زوننگ کی جائے،پنجاب حکومت نے 280ارب روپے دیکر کسانوں سے گندم کا دانہ دانہ خریدا،زرعی ترقیاتی بینک اب مافیا بن چکا ہے،یہاں صنعتوں کے اربوں روپے تو معاف کردئیے جاتے ہیں لیکن کسانوں کے 10 ہزار روپے معاف نہیں کئے جاتے،زرعی قرضے پر سود اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دو فیصد سود کیا جائے،زراعت پر قومی پالیسیاں بنائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو 7فیصد خوراک دینے والے سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل رکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف پھٹ پڑ ے اور کہا ہے کہ یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے،گھروں میں دس بوری سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہماری تذلیل کی گئی،ہم زمیندار ہیں ہمارا دس بوری گندم پہ گزارا نہیں ہوتا،یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملکی زراعت وینٹی لیٹر پر ہے، کسان پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کئی مافیاز ہیں، کہیں شوگر مافیا کہیں پسٹی سائیڈ مافیا، کپاس مافیا، دودھ مافیا ان کو ختم کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…