ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اسمبلی میں یومیہ کتنے لاکھ خرچ کیا جاتا ہے؟ عوامی مسائل بارے دھماکہ خیز بات کر دی گئی

datetime 30  جون‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن ) تحریک لبیک پاکستان کے منتخب عوامی نمائندے، ممبر صوبائی اسمبلی سندھ مفتی قاسم فخری نے عوامی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں یومیہ 40 سے 45 لاکھ خرچ کیا جاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی اس کے برعکس فلاں گو فلاں گو کے نعروں اور ڈیسکیں بجا کر اسمبلی سیشن بغیر کسی مسئلہ کا حل تلاش کئے ختم ہوجاتا ہے۔

کے ایم سی اور ڈی ایم سی کا کوئی پرسان حال نہیں بلدیہ ٹاؤن کے ساتھ پورا کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، عنقریب مون سون کی آمد ہے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی محکمہ موسمیات کی جانب سے تیز بارشوں کی پیشگوئی ہورہی ہے لیکن ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں کیونکہ مسائل کا سامنہ عوام کو کرنا ہے۔ ابلتے گٹر ٹوٹی سڑکوں نے عوام کو ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کی بدمعاشی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے بلدیہ ٹاؤن میں پانی کی تقسیم کاری کا نظام مکمل کرپشن کی نذر ہے، سیوریج کا نظام بدحال ہے،بارشوں میں مزید بدحالی آتی ہے، ان مسائل پر بات کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روشنیوں کے شہر کی بات نہیں ہورہی بلکہ ہم کسی دیہات یا گاؤں کی بات کر رہے ہوں۔ متعلقہ حکام اور ادارے اپنے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جلد از جلد برساتی نالوں کی صفائی کی طرف توجہ دیں۔ ممبر صوبائی اسمبلی سندھ مفتی قاسم فخری نے عوامی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں یومیہ 40 سے 45 لاکھ خرچ کیا جاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی اس کے برعکس فلاں گو فلاں گو کے نعروں اور ڈیسکیں بجا کر اسمبلی سیشن بغیر کسی مسئلہ کا حل تلاش کئے ختم ہوجاتا ہے۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سی کا کوئی پرسان حال نہیں بلدیہ ٹاؤن کے ساتھ پورا کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، عنقریب مون سون کی آمد ہے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…