پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اسمبلی میں یومیہ کتنے لاکھ خرچ کیا جاتا ہے؟ عوامی مسائل بارے دھماکہ خیز بات کر دی گئی

datetime 30  جون‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن ) تحریک لبیک پاکستان کے منتخب عوامی نمائندے، ممبر صوبائی اسمبلی سندھ مفتی قاسم فخری نے عوامی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں یومیہ 40 سے 45 لاکھ خرچ کیا جاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی اس کے برعکس فلاں گو فلاں گو کے نعروں اور ڈیسکیں بجا کر اسمبلی سیشن بغیر کسی مسئلہ کا حل تلاش کئے ختم ہوجاتا ہے۔

کے ایم سی اور ڈی ایم سی کا کوئی پرسان حال نہیں بلدیہ ٹاؤن کے ساتھ پورا کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، عنقریب مون سون کی آمد ہے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی محکمہ موسمیات کی جانب سے تیز بارشوں کی پیشگوئی ہورہی ہے لیکن ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں کیونکہ مسائل کا سامنہ عوام کو کرنا ہے۔ ابلتے گٹر ٹوٹی سڑکوں نے عوام کو ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کی بدمعاشی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے بلدیہ ٹاؤن میں پانی کی تقسیم کاری کا نظام مکمل کرپشن کی نذر ہے، سیوریج کا نظام بدحال ہے،بارشوں میں مزید بدحالی آتی ہے، ان مسائل پر بات کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روشنیوں کے شہر کی بات نہیں ہورہی بلکہ ہم کسی دیہات یا گاؤں کی بات کر رہے ہوں۔ متعلقہ حکام اور ادارے اپنے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جلد از جلد برساتی نالوں کی صفائی کی طرف توجہ دیں۔ ممبر صوبائی اسمبلی سندھ مفتی قاسم فخری نے عوامی مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں یومیہ 40 سے 45 لاکھ خرچ کیا جاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی اس کے برعکس فلاں گو فلاں گو کے نعروں اور ڈیسکیں بجا کر اسمبلی سیشن بغیر کسی مسئلہ کا حل تلاش کئے ختم ہوجاتا ہے۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سی کا کوئی پرسان حال نہیں بلدیہ ٹاؤن کے ساتھ پورا کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، عنقریب مون سون کی آمد ہے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…