بدقسمت جہاز اڑانے والے کپتان سجاد گل کی لاش کی شناخت کرلی گئی

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:38

کراچی( آن لائن ) طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے جہاز کے کپتان سجاد گل کی لاش کی شناخت کرلی گئی ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور جہاز کے کپتان سجاد گل کی شناخت ہوگئی ہے۔ریسکیو اور کام کے مطابق سجاد گل کی میت چھیپا کے سرد خانے میں موجود ہے۔۔بتایا گیا ہے کہ کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے کا کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھا،سجاد گل کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ تھا، جبکہ اے 320ایئربس چلانے


میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔جہاز کے کپتان کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کرنے کا تجربہ ہے، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پرتقریباً 7ہزار گھنٹے فلائٹ کی ہے۔گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس جہاز ہی اڑا رہے تھے۔ پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مجھے جاتے تھے، اے 320 ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید طیارہ کپتان کے اس وقت کنٹرول میں نہیں رہا، جب ان کے پاس بالکل بچنے کا مارجن ہی نہیں تھا۔کیونکہ طیارہ جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس کو فنی خرابی اور دونوں انجن فیل ہونے کے بعد بھی گلائیڈ کیا جاسکتا، لیکن شاید طیارہ آبادی کے اس قدر اوپر تھا کہ کپتان کو آبادی سے تھوڑا دور لے جانے کا بھی موقع نہیں ملا۔ پائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے۔ مرحوم کیپٹن نے سوگواران میں بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹن کے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ رہائشگاہ غم سے نڈھال ہوگئے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے طیارے سے متعلق بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

“Be Kind To Yourself”

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎