پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

غیر ملکیوں کے لئے خصوصی پروازیںہو سکتی ہیں تو ہم وطنوں کے لئے کیوں نہیں،دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس نہ لانا بے رحمی قرار

datetime 27  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس نہ لانا بے رحمی ہے۔وطن واپس آنے کے خواہشمند تمام افراد کو لانے کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں اور ائیرپورٹ پر سکریننگ کے بعدانھیں گھر جانے دیا جائے تاکہ انکے پریشان حال خاندان سکھ کا سانس لے سکیں۔

جن ممالک میں کورونا کی وباء بے قابو ہے وہاں مقیم پاکستانیوں کی واپسی کو ترجیح دی جائے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ دیار غیر میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے وسائل ختم ہو رہے ہیں اور انکی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔کئی ممالک میں لاک ڈائون ہے جبکہ متعدد شہروں میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ادھر کئی ممالک میں ہمارا سفارتی عملہ بھی ان سے تعاون نہیں کر رہاہے۔انکی دیکھ بھال، کھانے پینے، رہائش کے انتظامات اور انھیں انکے گھروں تک پہنچانے کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس سے صرف نظر نہ کیا جائے۔پاکستان نے 21 مارچ کو فضائی آپریشن بند کر دئیے تھے مگر بعد ازاں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پھنسے ہوئے غیر ملکیوں کو واپس بھجوانے کے لئے خصوصی فلائٹس کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ جہاز غیر ملکیوں کو انکے وطن میں چھوڑنے کے بعد خالی واپس آئیں گے جبکہ انہی جہازوں میں وہاں پھنسے ہوئے طلباء اور بزنس مینوں کا واپس لایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے عالمی اور ملکی سطح پر معیشت کو بھی تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔اس سے پاکستان میں سطح غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد دگنی ہو رہی ہے مگر اس سلسلہ میں حکومتی اقدامات حالات اورتوقعات کے مطابق نہیں ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال بارہ سال قبل آنے والے مالی بحران سے کہیں زیادہ خراب اثرات کی حامل ہے جس سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں زبردست جدوجہد کی جا رہی ہے مگر یہاں صورتحال مختلف ہے۔حکومت نے غریب افراد کے لئے مجموعی طور پر ساڑھے تین سو ارب روپے ریلیف کے لئے مختص کئے ہیں۔ غریب خاندانوں اور دیہاڑی کرنے والوں کے لئے ماہانہ مختص رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمت میں کمی مذاق جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں جو حیران کن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…