ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

حج فارم میں ختم نبوت ؐ کے حلف نامے کا خاتمہ، فارم سے ختم نبوت کونکالنا دنیا کے تمام مسلمانوں کی دل آزادی ہے، جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں ڈٹ گئی

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

کوئٹہ(آن لائن) جماعت اسلامی کے سینیٹر وخیبر پختونخواہ کے امیر مشتاق احمد خان نے سینٹ اورایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں حج 2020,21 کے فارم میں ختم نبوت ﷺ کے کالم نکالنے کے حوالے سے تحریک التواء جمع اورقرارداد پیش کردی ہے

جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامیان پاکستان اس اہم مسئلے پر اضطراب کا شکارہیں اوریہ نظریاتی مملکت اسلامی جمہوری پاکستان عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور مقدس مقام پر جانے سے قبل اس طرح کے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں، ختم نبوتﷺ تمام مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کا اہم جزوہے اور حج بیت اللہ جیسے مقدس زیارت کے سلسلہ میں فارم سے ختم نبوت کونکالنا دنیا کے تمام مسلمانوں کی دل آزادی ہے اوراسی طرح قادیانی گروپ،احمدی گروپ کو زمین حرم سے بازرکھنے کا واحد ذریعہ ختم نبوت کا حلف نامہ ہے۔ختم نبوت ﷺ کے کالم کو فوری طور پر حج فارم سال2020-21 میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں لہذااس معاملے کو ہاؤس میں بحث کیلئے منظور کیا جائے اس طرح کی سازشیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی یہ انتہائی خطرناک اقدام ہے جس سے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔جماعت اسلامی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ سال 2018-19 ء کے حج فارم کو فی الفور بحال کرتے ہوئے ختم نبوت کا حلف نامہ اس میں درج کیاجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…