عمران خان کی ہر بات میں’’میں ‘‘ہوتی ہے ، بلاول بھٹو نے مارچ میں مارچ کرنے کی جو بات کی اس کا مطلب کیا ہے ؟حکومت گھر جانے والی ہے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف مارچ میں شرکت کریں گے یا نہیں؟پیپلز پارٹی حکومت کیخلاف ڈٹ گئی

  منگل‬‮ 25 فروری‬‮ 2020  |  19:50

لاہور( این این آئی) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے مارچ میں مارچ کرنے کی جو بات کی اس کا مطلب ریلیاں اوریوتھ کنونشنز کا انعقاد ہے ،یکم مارچ سے بلاول بھٹو پنجاب آ رہے ہیں ،خواتین ،یوتھ ،پی ایس ایف ،اقلیتوں کی میٹنگز ہوں گی ورکرز کنونشن بھی ہوں گے ،مارچ کے دوسرے ہفتے میں ساہیوال اور فیصل آباد میں جلسے ہوں گے،حکومت نے معیشت کا گلا گھونٹ دیاہے ، شہبازشریف مارچ میں واپس آ رہے ہیں ،حکومت سے جلد چھٹکارا چاہتے ہیں ۔پارٹی رہنما چودھری امجد جٹ کے والد


کی رسم قل کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہر بات میں’’میں ‘‘ہوتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے صالحین کی جماعت بنا لی ہے ،میں ہی ہوں جس نے ورلڈ کپ جیتا ،شوکت خانم بنایا ،ان کے پاس نہ کوئی ٹیم نہ ادارہ ہے ،وہ فرد واحد ہیں ، آج ملک میں مشاورتی عمل کو ختم کر دیاگیا ہے ،پارلیمنٹ کو غیرفعال کر دیاگیاہے ،ججوں کے خلاف کیسز بنائے جا رہے ہیں ،حکومت کا جلدگھرجانا معیشت کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے کون سی بات کر دی ہے جس پر ہمارے وزراء گلے پھاڑ پھاڑ کر تعریفیں کررہے ہیں ،ٹرمپ تو خود عذاب ہیں ،امریکہ نے افغانستان سے نکلناہے اس لئے وہ پاکستان کی بات کررہاہے ، کیا اس نے کشمیراوروہینگیا کی بات کی ہے ،اپنی کاکیابی کیلئے امریکی صدر افغانستان سے فوجیں نکالنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال سنجیدہ ہے ،خان صاحب کے اتحادی اور ادارے تنگ ہیں اگر یہ کچھ اور دن چل گئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو اشارہ عوام سے ملا جو ان کے دکھوں کو سمجھتے ہیں ،سیاسی جماعتیں بہتری چاہتی ہیں ،کیسے سیاست بہتر کرنی ہے کوئی اکیلی سیاسی جماعت حکومت کے خلاف بڑی فتح حاصل نہیں کر سکتی ،آئینی و جمہوری راستے اختیار کریں گے اور حکومت کو ہٹائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات کے لئے وسطی مدتی انتخابات آئینی و جمہوری مطالبہ ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیپلزپارٹی کے دور کے دئیے گئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صحت کارڈ سے باہر نہیں نکلی وسیلہ روزگار ہمارے پروگرام ہیں ،حکومت کو ہٹا کر پیپلزپارٹی عوام کی حکومت لانا چاہتی ہے ،آئی ایم ایف سے ریلیف لیتے رہے لیکن عوام کو قتل کرکے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔خان صاحب تمام وعدوں سے وہ یوٹرن لے چکے ہیں ،جن کے خلاف بے بنیاد کیسز ہیں ان کو رہائی ملنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف بیمار ہیں ،عمران خان نے اپنا ڈاکٹر بھیج کر بھی تسلی کی لیکن وہ بیمار تھے ،نواز شریف لندن میں سیر سپاٹے نہیں کررہے ، اس پر کوئی بات کرنا غیر مناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وہ ہوتے ہیں جن کیلئے انتخابات سے پہلے ایجنسیوں کی جانب سے ہوا بھری جاتی ہے میڈیا میں اچھی خبروں کاانتظام کیا جاتاہے ، حلقے بنا کردئیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی کامیاب نہ ہوں تو اتحادی بھی بناکر اس کاانتظام کیاجاتاہے ،خان صاحب ملک کی جان چھوڑیں تاکہ ملک کو اصل ڈگر پر ڈالا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جو اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگز ہوئیں تو کہاکہ دھرنوں کی سیاست نہیں کریں گے ،ملک کے اندر اس وقت ختم نبوت کاایشو نہیں تو ساتھ نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کو واپس آ جانا چاہیے وہ بھائی کے علاج کیلئے باہر گئے ،وہ مارچ میں واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کو جس کیس میں پکڑا اس میں پانچ سو ارب روپے کے نعرے لگائے لیکن آج ان پر ریفرنس نہیں بن رہا، یہی سوالات 2006-7میں کھولے گئے ،ان اب نئی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اوور سیز کالونی کا ٹھیکہ کمپنی کو دیاگیا جس سے ریاست کو نقصان پہنچا ،کئی سالوں سے ہائوسنگ سکیم پر ٹھیکے نہیں ملے ،ایف ڈبلیو او ان کے پاس ڈیموں شاہراہوں کے ٹھیکے ہوتے ہیں اس کو یونیفارم والے چلاتے ہیں ،الزام ان پر ہے کہ ٹھیکہ دئیے اور پیسے کمائے ۔چیئرمین نیب سے کہتا ہوں اگر ایف ڈبلیو او رشوت لیتاہے تو ملک کے تمام منصوبوں کے ٹھیکے کھولے جائیں،اگر ایف ڈبلیو او کو رشوت دی تو اس کا حساب دینا چاہیے ،ادارے کے ڈی جی کوکٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے ،خدا کا خوف کریں دشمنی میں اتنے آگے نہ جائیں کہ سرکاری اداروںکوالزامات میں لے آئیں۔انہوں نے کہا کہ احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانت خوش آئند ہے ۔


موضوعات: