بھینس چوری کا تنازع! 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے

  پیر‬‮ 17 فروری‬‮ 2020  |  6:38

کشمور (این این آئی)سندھ کے ضلع کشمور میں 2004ء میں بھینس چوری کا تنازع خوں ریز قبائلی تصادم میں تبدیل ہوا جس کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں تاہم تنازعہ ختم نہ ہو سکا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لڑنے اور مارے جانے والوں کے مطابق قبائلی تصادم نہ ہو تو سردار کی سرداری کی پہچان کیسے ہوگی؟ سوال یہ ہے کہ حکومت کو کیا عزیز ہے؟ سرداروں کی سرداری یا اپنے شہریوں کے جان و مال؟۔ضلع کشمور میں کند کوٹ شہر کے قریب میر الٰہی بخش گوٹھ کے رہائشی شیر زمان بجارانی


ایک صحافی ہیں، جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، مگر قبائلی تنازع کا حصہ صرف اس لیے بن گئے کہ اْن کے نام کے آگے بجارانی لگا ہوا ہے، اس شناخت کے باعث ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں،گزشتہ دنوں شیر زمان بجارانی کے گھر پر مسلح افراد نے حملہ کیا اور یہ حملہ اْس تازہ جھگڑے کا شاخسانہ ہے جو اْوگائی برادری کے کھیت میں تیغانی قبیلے کے جانور چھوڑنے سے شروع ہوا۔اس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کا ایک ایک فرد اغواء کر لیا، شیر زمان بجارانی کا ایک ہاری بھی قتل ہوا۔اْوگائی اور بجارانی حلیف اور تیغانی مخالف قبیلہ ہے، جن کے درمیان تنازع 2004ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اْوگائی قبیلے کی 2 بھینسیں چوری ہوگئی تھیں۔بھینس چوری کا الزام تیغانیوں پر لگا تھا ، جواب میں تیغانیوں کے سردار تیغیو خان تیغانی کی بھینس چوری ہوئی، پھر یہ چوریاں خونریز تصادم اور انتقام میں بدل گئیں۔2012ء تک انتقام کی آگ میں 102 جانیں چلی گئیں، سیکڑوں زخمی اور درجنوں معذور ہوگئے، حکومت کے دبائو پر مقامی سرداروں نے مل کر صلح کرائی۔ زیادتی کرنے پر تیغانیوں پر جرمانہ ہوا تاہم یہ جرمانہ متاثرین کو نہیں ملا جس پر تنازع ابھی تک جاری ہے۔مخالفین تیغانی قبائل پر جھگڑا شروع کرنے اور ان کے سردار تیغو خان تیغانی پر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہیں۔بعض لوگوں کے مطابق ایسے تنازعات سرداروں کی سرداری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں،خصوصاً الیکشن کے موقع پر قبائلی کشیدگی ووٹرز کو اپنے سردار کے قریب کر دیتی ہے۔


موضوعات: