منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

بھینس چوری کا تنازع! 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

کشمور (این این آئی)سندھ کے ضلع کشمور میں 2004ء میں بھینس چوری کا تنازع خوں ریز قبائلی تصادم میں تبدیل ہوا جس کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں تاہم تنازعہ ختم نہ ہو سکا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لڑنے اور مارے جانے والوں کے مطابق قبائلی تصادم نہ ہو تو سردار کی سرداری کی پہچان کیسے ہوگی؟

سوال یہ ہے کہ حکومت کو کیا عزیز ہے؟ سرداروں کی سرداری یا اپنے شہریوں کے جان و مال؟۔ضلع کشمور میں کند کوٹ شہر کے قریب میر الٰہی بخش گوٹھ کے رہائشی شیر زمان بجارانی ایک صحافی ہیں، جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، مگر قبائلی تنازع کا حصہ صرف اس لیے بن گئے کہ اْن کے نام کے آگے بجارانی لگا ہوا ہے، اس شناخت کے باعث ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں،گزشتہ دنوں شیر زمان بجارانی کے گھر پر مسلح افراد نے حملہ کیا اور یہ حملہ اْس تازہ جھگڑے کا شاخسانہ ہے جو اْوگائی برادری کے کھیت میں تیغانی قبیلے کے جانور چھوڑنے سے شروع ہوا۔اس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کا ایک ایک فرد اغواء کر لیا، شیر زمان بجارانی کا ایک ہاری بھی قتل ہوا۔اْوگائی اور بجارانی حلیف اور تیغانی مخالف قبیلہ ہے، جن کے درمیان تنازع 2004ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اْوگائی قبیلے کی 2 بھینسیں چوری ہوگئی تھیں۔بھینس چوری کا الزام تیغانیوں پر لگا تھا ، جواب میں تیغانیوں کے سردار تیغیو خان تیغانی کی بھینس چوری ہوئی، پھر یہ چوریاں خونریز تصادم اور انتقام میں بدل گئیں۔2012ء تک انتقام کی آگ میں 102 جانیں چلی گئیں، سیکڑوں زخمی اور درجنوں معذور ہوگئے، حکومت کے دبائو پر مقامی سرداروں نے مل کر صلح کرائی۔

زیادتی کرنے پر تیغانیوں پر جرمانہ ہوا تاہم یہ جرمانہ متاثرین کو نہیں ملا جس پر تنازع ابھی تک جاری ہے۔مخالفین تیغانی قبائل پر جھگڑا شروع کرنے اور ان کے سردار تیغو خان تیغانی پر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہیں۔بعض لوگوں کے مطابق ایسے تنازعات سرداروں کی سرداری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں،خصوصاً الیکشن کے موقع پر قبائلی کشیدگی ووٹرز کو اپنے سردار کے قریب کر دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…