نواز شریف اقتدار میں نہیں اسی لئے بیمار ہیں، آج اقتدار دیدو گھوڑے کی طرح بھاگیں گے، مریم ضد کرتی ہے پاپا، پاپا میں نے وزیراعظم بننا ہے، سینئر صحافی کا دعویٰ

  بدھ‬‮ 12 فروری‬‮ 2020  |  22:14

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) میاں نواز شریف ضد کیوں کر رہے ہیں کہ مریم نواز کو لندن بھیجیں تو علاج کراؤں گا، یہ ضدی بچہ ان میں کیوں آ جاتا ہے، اس کا جواب دیتے ہوئے معروف صحافی عارف حمید بھٹی نے  پروگرام کی میزبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہمیرے اور آپ کے بچے کہیں گے کہ پاپا ٹافی لے دیں، ڈول لے دیں، چھوٹی سی گاڑی کھلونا لے دیں، یہاں مریم نواز ضد کر بیٹھی ہیں کہ پاپا پاپا میں نے پی ایم بننا ہے، ان کی یہ خواہش کیسے پوری ہو، خواہشیں رکھنا کوئی بری بات نہیں،


نواز شریف کی بیماری بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور پوری سیٹ پر لیٹ جاتا ہے تو ایک شخص آتا ہے کہ بھائی یہ میری سیٹ ہے تو وہ اسے غصے سے کہتا ہے کہ جانتا نہیں میں کون ہوں تو وہ شخص خاموش ہو جاتا ہے اتنے میں تیسرا شخص آتا ہے تو اسے بھی یہ شخص غصے سے کہتا ہے کہ تو جانتا نہیں میں کون ہوں تو وہ آگے سے غصے سے پوچھتا ہے کہ کون ہے، جس پر پہلے والا شخص کہتا ہے کہ میں بیمار ہوں، تو میاں نواز شریف ایسے بیمار ہیں۔ جب تک ان سے اقتدار چھینے گے یہ بیمار رہیں گے، انہیں اقتدار دے دیں تو یہ گھوڑے کی طرح بھاگیں گے، کوئی بیماری نہیں ہے پلیٹلیٹس کا اتار چڑھاؤ کہاں گیا، ان کے دانتوں کا نہیں ان کے دماغ کا علاج ہونے والا ہے کہ بڑا پیسہ کما لیا ہے بس کرو، خدارا یہ قوم اب متحمل نہیں ہو سکتی اتنے بوجھ کی، آپ نے تیس سال حکومت کرکے ہمیں نیست و نابود کر دیا ہے، ہماری اکانومی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎