منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر سندھ کے پاس کوئی اختیار نہیں، وہ اپنے چپڑاسی کو بھی نہیں ہٹا سکتے، گورنر صرف کیا کر سکتے ہیں؟ سعید غنی نے ایم کیو ایم کو دوبارہ دعوت دیدی

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)وزیراطلاعات سعید غنی نے کہا ہے آئی جی سندھ کسی کی شہ پر بیٹھے ہیں، وفاق انہیں تبدیل کیوں نہیں کرتا، گورنر سندھ کے پاس کوئی اختیار نہیں، وہ اپنے چپڑاسی کو بھی نہیں ہٹا سکتے۔ ایم کیو ایم کو نالائق حکومت کا ساتھ چھوڑ کر ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کا نام بدلنے کیلئے قانون کو بدلنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ وزیراعلی سندھ صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں اسلام آباد میں ملاقاتیں کررہے ہیں، ان کی جہانگیرترین سے ملاقات کا علم نہیں، صوبہ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے،عملی طور پر پولیس کا سربراہ حکومت کے کہنے پرکام نہیں کررہا، 18 ویں ترمیم کے بعد گورنر سندھ کی خاص اہمیت نہیں۔ گورنر صاحب صرف موجیں کرنے کے لیے ہیں، وہ تو گورنر ہاؤس میں لگے چپراسی کا بوریا بستر گول نہیں کر سکتے۔ آئی جی سندھ کسی کی شہ پر بیٹھے ہیں، وفاق انہیں تبدیل کیوں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہی تھی۔ بی آئی ایس پی کے فارمز مخالف جماعتوں کو بھی دیے گئے تھے، سینیٹ اور قومی اسمبلی نے بی آئی ایس پی پروگرام کو منظور کیا تھا،اب بی آئی ایس پی کا نام بدلنے کے لیے قانون بدلنا ہوگا، لوگوں کے دلوں میں بے نظیر بھٹو کا نام ہے۔سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وجہ سے آج عوام مصیبت میں ہے، کوئی طبقہ سکون سے اپنی زندگی نہیں گزار رہا، جو سکون چاہتے ہیں انہیں پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنا ہوگا، ایم کیو ایم کو نالائق حکومت کا ساتھ چھوڑ کر ہمارا ساتھ دینا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ نیب پی ٹی آئی کے لوگوں کو چھوڑ کر سینیٹ کے لوگوں کو پکڑ رہا ہے، اگر کسی پر کرپشن ثابت ہو جائے تو ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…