اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

’’گدھے کے گوشت فروخت ہونے لگا یا کوئی اور ماجرہ؟‘‘پاکستان کے بڑے شہر میں گدھوں کے سر اور آلائشیں ملنے کا انکشاف

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن) کراچی کے علاقے کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب گدھوں کے سر اور آلائشیں ملنے کا انکشاف ہوا ہے، کچرا کنڈی میں گدھوں کے سر اور آلاشیں ملی ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں گدھے کے گوشت فروخت ہونے لگا یا کوئی اور ماجرہ ہے۔ اس حوالے سے کراچی کے علاقے کلفٹن میں ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب گدھوں کے سر اور آلاشیں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ مقام پر کچرا کنڈی میں تین گدھوں کے سر اور ان کی آلاشیں پڑی ملی ہیں، کنٹونمنٹ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد مبینہ طور پر ذبح کئے گئے گدھے کے سراور آلاشیں پھینک کر فرار ہوگئے، بعد ازاں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی صفائی کا عملہ گدھوں کی باقیات اٹھا کر لے گیا۔یاد رہے کہ کراچی میں گدھوں کی تقریباً پانچ ہزار کھالیں پکڑے جانے کے کیس کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کھالیں لاہور سے کراچی بذریعہ ٹرین بھیجی گئیں، 3 گوداموں میں رکھی گئیں۔کراچی اور لاہور کے کئی گروہ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں، لاہور سے کراچی کھالیں ٹرین میں کارگو کے نام پر بک کروا کے بھیجی گئیں،۔یہ کھالیں کراچی پہنچا کر شہر قائد کے تین گوداموں میں رکھی گئیں جو کہ گلستان جوہر، کورنگی گودام چورنگی اور ماڑی پوری میں واقع ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…