ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

امتحان میں نمبر کم آنے پر کم سن طالبعلم نے اپنی جان لے لی،سوشل میڈیا پر طالبعلم کا والدین کے نام لکھا گیا نوٹ وائرل ہو گیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)امتحانات میں نمبرز کم آنے پر ایک کم سن طالبعلم نے اپنی جان لے لی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کم سن طالبعلم نے امتحان میں نمبر کم آنے پر نہر میں کود کر اپنی جان لے لی۔ خود کشی سے قبل والدین کے نام لکھے گئے نوٹ میں طالبعلم کا کہنا تھا کہ ”میرے پیارے ابو اور امی، مجھے معاف کر دینا، میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے،

اس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی۔مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی۔ بس مجھے معاف کر دینا۔”اسی نوٹ کے پیچھے یہ بھی تحریر تھا کہ ”اس نوٹ کو پڑھنے والے میرے گھر بتا دو کہ میں یہاں ہوں ” اور ساتھ ہی اپنے والدین کا فون نمبر بھی لکھا۔سوشل میڈیا پر اس منظر کی کچھ تصاویر اور طالبعلم کے ہاتھوں والدین کے لیے لکھا گیا خط بھی وائرل ہو گیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں طالبعلم کے جوتے اور اسکول کا بستہ بھی موجود ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی اشکبار ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں ریسکیو اہلکاروں کو نہر سے بچے کی لاش نکالتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔خود کشی کرنے والے بچے سے متعلق مزید معلومات حاصل نہیں ہو سکیں نہ ہی بچے کے اہل خانہ کا کوئی بیان سامنے آیا۔سوشل میڈیا صارفین نے امتحانات میں نمبر لینے کے لیے بچوں پر دبا ڈالنے والے والدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ امتحانات میں نمبرز کم آنے پر ایک کم سن طالبعلم نے اپنی جان لے لی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کم سن طالبعلم نے امتحان میں نمبر کم آنے پر نہر میں کود کر اپنی جان لے لی۔ خود کشی سے قبل والدین کے نام لکھے گئے نوٹ میں طالبعلم کا کہنا تھا کہ ”میرے پیارے ابو اور امی، مجھے معاف کر دینا، میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے، اس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی۔مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی۔ بس مجھے معاف کر دینا۔”

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…