پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

چیئرمین سینیٹ کے بعد اپوزیشن کا ایک اور دھماکہ خیز اقدام، بڑے صوبے میں حکومت کی تبدیلی کیلئے  پس پردہ رابطے شروع،کھلبلی مچ گئی

datetime 26  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین سینیٹ کے بعد اپوزیشن نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی کیلئے  پس پردہ رابطے شروع کردئیے۔ پارلیمانی ماہرین کے مطابق 65 رکنی بلوچستان اسمبلی  میں اکثریت کے لئے 33 ارکان کی حمایت درکار ہے، حکمران اتحاد میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)کی 24 اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سات نشستیں ہیں۔

چار نشستوں کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بھی بلوچستان حکومت کا حصہ ہے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ اے این پی نے اتفاق رائے کی صورت میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دیدیاہے۔ اپوزیشن ذرائع نے یہ دعویٰ  کیا  کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل اور دیگر جماعتیں مل کر سادہ اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے اورنئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد بلوچستان میں تبدیلی پر باقاعدہ کام  شروع کردیا جائیگا۔ادھر وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان بھی اپنی اتحادی حکومت بچانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے کہاہے کہ وزیراعلی بلوچستان  جام کمال خان حالیہ دورہ اسلام آباد میں بھی اہم ملاقاتوں اور رابطوں میں مصروف رہے۔جام کمال خان نے جہاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے مختلف لوگوں کو درخواست کی وہاں اپنی حکومت بچانے کے لیے بھی سرگرم عمل رہے۔  چیئرمین سینیٹ کے بعد اپوزیشن نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی کیلئے  پس پردہ رابطے شروع کردئیے۔ پارلیمانی ماہرین کے مطابق 65 رکنی بلوچستان اسمبلی  میں اکثریت کے لئے 33 ارکان کی حمایت درکار ہے، حکمران اتحاد میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)کی 24 اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سات نشستیں ہیں۔ چار نشستوں کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بھی بلوچستان حکومت کا حصہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…