ایک بزرگ غلاف کعبہ کو پکڑ کر رو رو کر کہہ رہا تھا اللہ پاکستان کو چوروں سے نجات دلا دے، ان دعاؤں کے نتیجے میں آج عمران خان اقتدار میں آ چکے ہیں

  بدھ‬‮ 19 جون‬‮ 2019  |  20:46

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان لوگوں کی دعاؤں کی وجہ سے وزیراعظم بنے ہیں، قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ آج ملک میں ایماندار‘ مخلص اور جرات مند قیادت ہے اور ملک جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں عمرہ پر گیا تو غلاف کو پکڑ کر ایک بزرگ رورو کرکہہ رہا تھا اللہ میرے ملک کو چوروں سے نجات دلا۔ان دعاؤں کے نتیجے میں عمران خان اقتدار میں آ چکے ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ مالی


سال کے لئے ٹیکس وصولیوں کا 5555 ارب روپے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے جو پورا کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی تو اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں کی گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے ملک پر 30846 ارب روپے قرضہ چڑھ چکا تھا۔ ملک پر جون 2008ء میں 6690 ارب روپے قرضہ تھا جو 10 سالوں میں دو جماعتی نظام نے 24 ہزار ارب روپے تک بڑھا دیا جو 1947ء سے 2008ء تک 6 ہزار ارب روپے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال تین ہزار ارب روپے صرف سود کی مد میں ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں کئے‘ ان کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ دو جماعتی اشتراک بہت ظالم اشتراک تھا اور اس کو ہم نے توڑا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اقتصادی سروے کے مطابق 2014ء سے 2018ء تک نئی کرنسی میں سو فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس دوران 101 فیصد کرنسی سرکولیشن میں اضافہ ہوا‘ نئے نوٹ چھاپے گئے اور مصنوعی گروتھ ظاہر کی گئی جو افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ کی وجہ بنی۔ اس نوٹ چھاپنے کے عمل کو تحریک انصاف نے رد کردیا اور ہم اسے پائیدار بنیادوں پر استوار کریں گے۔ عمر ایوب نے کہا کہ دس سالوں میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ ان میں کمی ہوئی۔ کرنسی کا اس طرح چھاپنا مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں نچلی سطح پر آئی تھیں تاہم اس کا فائدہ اٹھا کر برآمدات میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت کی حکومت صرف ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقہ سے کم رکھنے میں لگی رہی‘ اس کا اعتراف مسلم لیگ (ن) کے آخری وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈالر کو مصنوعی سہارا دینے کے لئے 24 ارب ڈالر ضائع کئے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں ایماندار قیادت کے لئے قوم کی دعائیں قبول ہوئیں اور تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور آج ہم اس تبدیلی کے سفر پر چل رہے ہیں۔ پچھلے دس سال میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہوئی جس کی وجہ یہاں قیادت کا فقدان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مسلم لیگ (ن) نے نظریہ پاکستان کا کریڈٹ نہیں لیا ورنہ وہ بھی لے لیتے۔ ایوب خان کے دور کے منصوبوں کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) لے رہی ہے۔ اس حوالے سے تاریخی حقائق موجود ہیں۔ ایوب خان کے دور میں شاہراہ ریشم‘ ہیوی انڈسٹریز‘ مکینیکل کمپلیکس اور بجلی کے منصوبے سی پیک کی بنیاد بنے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سات بار اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت تین بار آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ کیری لوگر بل میں انہوں نے ملک کا جو حشر کیا وہ یہ بھول گئے ہیں اور آج مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے ملک کو دوہرے خساروں کا شکار بنایا ہے۔ 1988ء میں غیر ملکی قرضے 13 ارب ڈالر‘ 1999ء میں 39 ارب ڈالر‘ 2008ء میں 41 ارب ڈالر‘ 2018ء میں 96 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ فاٹا کے پی کے کا حصہ بن گیا ہے اس علاقہ کی ترقی کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے لئے سول حکومت اور مسلح افواج نے اپنے بجٹ میں کٹوتی کی اور فاٹا کے لئے مالی گنجائش پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجلی کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کرتے تھے لیکن لوڈشیڈنگ پھر بھی ہوتی تھی تو وہ بجلی کہاں چلی جاتی تھی‘ ہم نے ایمانداری کے ساتھ بجلی کے سسٹم کو ٹھیک کیا ہے۔ پاکستان کے 8879 فیڈرز ہیں۔ 80 فیصد کو لوڈشیڈنگ فری بنا دیا ہے۔ رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے اوقات میں وزیراعظم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں کامیابی کی شرح 99.35 فیصد رہی۔ نظام کی خامیاں دور کیں اور اس میں بہتری لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخ میں ایک پیسہ بھی اضافہ نہیں کیا بلکہ اس کے لئے سبسڈی دے رہے ہیں۔ برآمدات کے فروغ کے لئے بجلی میں سہولت دی ہے۔ برآمدات کی مقدار بڑھی ہے اور ہمارے برآمد کنندگان کے پاس آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا اور اس کا اثر زائل کرنے کے لئے آگے انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے بے تحاشہ چوری والے فیڈرز پر بھی بجلی دینا شروع کردی جس کی وجہ سے ایک سال کے اندر گردشی قرضے میں ساڑھے 400 ارب کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے اس کا سدباب نہیں کیا بلکہ خسارہ بڑھا دیا گیا جبکہ اسی ارادے کے ساتھ ٹیکس میں بھی چھوٹ دی گئی اور آخری دنوں میں نیپرا کو قیمتیں بڑھانے کی سمری دے کر گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت خسارے اور گردشی قرضے کو کم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ 2020ء کے آخر تک گردشی قرضے میں بتدریج کمی لاتے ہوئے اسے صفر کردیں گے۔ بجلی چوری روکنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں جبکہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ مجموعی طور پر بجلی کے شعبہ میں 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ 2025ء تک انرجی مکس میں 20 فیصد قابل تجدید ذرائع سے بجلی شامل ہوگی جسے 70-75 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم‘ سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ‘ تخفیف غربت اور صحت و علاج معالجہ کے لئے شروع کردہ حکومتی منصوبوں اور پروگراموں کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہو چکا ہے۔ دس بلین ٹری سونامی منصوبہ کے لئے فنڈز مختص کئے ہیں۔ نوجوانوں کے لئے تعلیم و تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدہ حالات میں ایک مدبر اور جرات مند لیڈر ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔

loading...