منگل‬‮ ، 19 ‬‮نومبر‬‮ 2024 

ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے اسحاق ڈار کے خفیہ اثاثے ظاہر ہوں،واجد ضیاء کے بیان نے لیگیوں کو خوش کر دیا

datetime 22  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں واجد ضیاء پرجرح کے دور ان نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ سارے سوالات ایک اشتہاری شخص سے متعلق پوچھے جا رہے ہیں، اشتہاری شخص سے متعلق جرح نہیں ہو سکتی جو شخص عدالت سے بھاگا ہوا ہے اس سے متعلق پوچھا جا رہا ہے جبکہ واجد ضیاء نے بتایا ہے کہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے اسحاق ڈار کے خفیہ اثاثے ظاہر ہوں۔

بدھ کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔ دور ان سماعت نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کے وکیل قاضی مصباح نے مرکزی گواہ واجد ضیا پر جرح کی۔ وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہاکہ کیا جے آئی ٹی نے ماہر معاشیات سے مدد لی گئی تھی۔واجد ضیاء نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ جے آئی ٹی نے ماہر معاشیات سے مدد لی تھی۔قاضی مصباح نے کہاکہ کیا ایف بی آر نے مکمل ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کیا تھا۔ واجد ضیاء نے کہاکہ ایف بی آر نے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا تھا۔واجد ضیاء نے کہاکہ 1981 سے 1985 تک کا ریکارڈ ایف بی آر نے فراہم نہیں کیا ہے،جے آئی ٹی کے علم میں تھا کہ اسحاق ڈار نے اپنے غیر ملکی اثاثے الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے تھے۔انہوں نے کہاکہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے اسحاق ڈار کے خفیہ اثاثے ظاہر ہوں۔وکیل صفائی نے کہاکہ کیا آپ کے علم میں ہے اسحاق ڈار کی ہجویری فاؤنڈیشن 90 یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے؟۔ واجد ضیاء نے کہاکہ مجھے یاد نہیں بچوں کی کفالت کی جاتی تھی یا کتنے بچے تھے۔وکیل صفائی نے کہاکہ آپ کو یاد نہیں تو ہم آپ کو یاد دلا دیتے ہیں،آپ کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ دیکھ لیتے ہیں۔وکیل صفائی نے کہاکہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہے ہجویری ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن فلاحی ادارے ہیں۔ واجد ضیاء نے کہاکہ

میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہجویری ٹرسٹ رمضان راشن، مریضوں کو مالی معاونت اور ایسے کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی نے ہجویری فاؤنڈیشن کے کسی ایسے پراجیکٹ کی تفصیلات حاصل نہیں کیں۔انہوں نے کہاکہ درست ہے کہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے سامنے بیان دیا تھا،درست ہے کہ اسحاق ڈار نے کہا 1999 میں آئی ایس آئی اور نیب نے ان کا ٹیکس ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ وکیل صفائی نے کہاکہ کیا آپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کی حقیقت معلوم کی تھی؟

واجد ضیاء نے کہاکہ ہم نے اس بیان کی کہیں سے کوئی تصدیق نہیں کی۔ وکیل صفائی کے سوالات پر نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ سارے سوالات ایک اشتہاری شخص سے متعلق پوچھے جا رہے ہیں۔افضل قریشی نے کہاکہ اشتہاری شخص سے متعلق جرح نہیں ہو سکتی جو شخص عدالت سے بھاگا ہوا ہے اس سے متعلق پوچھا جا رہا ہے۔بعد ازاں اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس پر سماعت 29مئی تک ملتوی کر دی گئی۔



کالم



ہم سموگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟


سوئٹزر لینڈ دنیا کے سات صاف ستھرے ملکوں میں شمار…

بس وکٹ نہیں چھوڑنی

ویسٹ انڈیز کے سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی چار سو…

23 سال

قائداعظم محمد علی جناح 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں…

پاکستان کب ٹھیک ہو گا؟

’’پاکستان کب ٹھیک ہوگا‘‘ اس کے چہرے پر تشویش…

ٹھیک ہو جائے گا

اسلام آباد کے بلیو ایریا میں درجنوں اونچی عمارتیں…

دوبئی کا دوسرا پیغام

جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش میں طالب علموں کی تحریک…

دوبئی کاپاکستان کے نام پیغام

شیخ محمد بن راشد المختوم نے جب دوبئی ڈویلپ کرنا…

آرٹ آف لیونگ

’’ہمارے دادا ہمیں سیب کے باغ میں لے جاتے تھے‘…

عمران خان ہماری جان

’’آپ ہمارے خان کے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ وہ مسکرا…

عزت کو ترستا ہوا معاشرہ

اسلام آباد میں کرسٹیز کیفے کے نام سے ڈونٹس شاپ…

کنفیوژن

وراثت میں اسے پانچ لاکھ 18 ہزار چارسو طلائی سکے…