منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

 معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام کو ملک کے لیے خطرناک قرار دے دیا، پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے،انتہائی خطرناک پیش گوئی

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام کو ملک کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بیل آؤٹ پیکج سے مہنگائی بڑھے گی، ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا جس سے عام لوگ پریشان ہوں گے، بہتر ہے کہ حکومت وزارتوں کو کم کرے اور سرکاری ملازمین اور وزیروں کی تنخواہوں پر کٹ لگائے،سرکاری ملازمین اور وزارتوں کی کارکردگی صفر ہے مگر تنخواہیں بڑھ رہی ہیں، کئی ڈویژن خسارے میں ہیں مگر ان کا خرچہ زیادہ ہے۔

اس ضمن میں بات چیت کرتے ہوئے سابق گورنرسندھ اور ماہر معاشیات محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے، اگر مزید بوجھ ڈالا گیا تو پاکستانی معیشت ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ مجموعی ٹیکسز بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی نے کہا پاکستان کے فیصلے عالمی مالیاتی فنڈ کے لوگ کر رہے ہیں کیونکہ مذاکرات آئی ایم ایف بمقابلہ آئی ایم ایف ہی ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تباہ کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کا پروگرام نہیں ہے، ہمارے ٹیکسز میں صرف آمدنی کو دیکھا جاتا ہے اور آئی ایم ایف بھی ایسا ہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر حملہ کسی حوالے سے بھی جائز نہیں، ہم دو سال سے بول رہے تھے کے معیشت بحران کی طرف جارہی ہے تو انہیں بھی معلوم ہوگا۔قیصربنگالی نے کہاکہ اگر ہم آئی ایم ایف کو اپنا پروگرام دے دیں تو وہ کڑی شرائط نہیں رکھتا لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔انہوں نے معیشت کی بحالی سے متعلق کہا کہ ہمیں تین سے چار ارب ڈالر کی برآمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے، صنعتوں پر ٹیکس کم کرنا ہو گا اور ٹیکس کی شرح بھی کم کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اس محدود معیشت میں مزید ٹیکس بنانے کی گنجائش نہیں ہے، اس وقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت پر قابض ہے۔سابق وزیر خزانہ ڈاکٹرسلمان شاہ نے کہا کہ ہمیں برے طرز حکومت نے تباہ کیا ہے ورنہ اس ملک میں بہت کچھ ہے، پاکستان ایک نوجوان ملک ہے جس کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ 80فیصد معیشت صوبوں کے پاس ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام تھوڑا ریلیف دے گا، اس وقت شرح سود اتنی بلند نہیں ہے ہمیں اس وقت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ معیشت کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ کسی نے نہیں پہنچایا، اس وقت آئی ایم ایف کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مستحکم کیا جائے اور یہ پاکستان کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…