اسلام آباد (این این آئی) پی ٹی ایم سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے سوالات اور آرمی چیف کے بیان پر خورشید شاہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھی بات ہے آرمی چیف نے اس پر خود بات کی ہے۔ ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہاکہ آرمی چیف نے پی ٹی ایم کے بارے میں جو کہا تو اس کو اس صورت دیکھنا چاہیے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ چند لوگ ہیں جن پہ بات ہو سکتی ہے کہ وہ کیا ہیں۔
خورشید شاہ نے کہاکہ میں یہ کہتا ہوں کہ معاشرے، سسٹم یا کسی ادارے میں سوال ہوتا ہے تو ہونے دیں۔ خورشید شاہ نے کہاکہ سوال ہونے دیں پھر اس کا جواب آنا چاہیئے۔ پھر ڈائیلاگ ہوں۔ خورشید شاہ نے کہاکہ آج وہ حالات ہیں کہ ڈائیلاگ ہو سکتا، کل یہ نہیں ہو گا۔خورشید شاہ نے کہاکہ مشرقی پاکستان میں ایک وقت تھا کہ ڈائیلاگ ہو سکتا تھا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ پھر وہ وقت آیا کہ بنگلہ دیش کی تحریک ٹاپ پر چلی گئی۔۔خورشید شاہ نے کہاکہ مجیب الرحمن نے جب دیکھا کہ میں یہاں تک آ گیا تو اس نے ڈائیلاگ سے انکار کردیا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ ہمیں ماضی کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے اورفوج بھی ہمارے ملک کی حفاظت کیلئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج کا بھی یہ ہی مقصد ہے کہ ملک میں امن و امان رہے۔ انہوں نے کہاکہ سوال ہونے دیں، ڈائیلاگ کریں ہر چیز ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سیاست ہر جگہ ہوتی ہے مگر اس کا توڑ طاقت نہیں مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں یہ ہونے دیں، ہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی واپس لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے مولانا کی سیکیورٹی واپس لے کر بڑی زیادتی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس اقدام سے خود پر وزن لیا جو برداشت نہیں کر سکیں گے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ مولانا کے اوپر تین چار خطرناک حملے ہو چکے،کبھی بھی کچھ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے سیکیورٹی چھینی، کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہو گی۔انہوں نے کہاکہ اللہ مولانا کو زندگی دے، خدانخواستہ کچھ ہوا تو حکومت اپنی جان نہیں چھڑوا سکے گی۔



















































