جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سری لنکا میں حملوں کے بعد پاکستانی باشندے خوفزدہ مقامی افراد پولیس کو فون کر کے کیا رپورٹس لکھوانے لگے؟

datetime 25  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کولمبو( آن لائن )مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر کیے جانے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں میں مسیحی افراد کی ہلاکتوں کا سوگ ابھی تھما نہیں تھا کہ سری لنکا کے سینکڑوں مسلمان شہریوں کو مذہبی کشیدگی کی وجہ سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ متعدد پاکستانی مسلمان باشندے مقامی لوگوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے خوف کی وجہ سے نیگومبو نامی شہر چھوڑ چکے ہیں۔

پولیس اور کمیونٹی رہنمائوں نے بسوں کے ذریعے ان افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا ہے۔ایک پاکستانی مسلم شخص عدنان علی کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں کے بعد مقامی لوگوں کی جانب سے ان کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ علی کے بقول، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں جائیں گے۔سری لنکا میں اکیس اپریل کو گرجا گھروں اور ہوٹل میں کیے گئے چھ دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 359 افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ چرچ کے رہنما سمجھتے ہیں کہ کولمبو کے نواحی علاقے نیگومبو میں واقع سینٹ سباستیان گرجا گھر میں ہونے والے دو دھماکوں میں ہلاک شدگان کی تعداد دو سو تک پہنچ سکتی ہے۔علاوہ ازیں جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش سری لنکا میں ایسٹر کے تہوار پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ نیگومبو سے منتقل ہونے والے مسلمان باشندوں کا تعلق احمدیہ برادری سے ہے۔ واضح رہے پاکستان کے آئین میں احمدیہ افراد کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد سے احمدی کمیونٹی اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ایک عرصے سے امتیازی سلوک کا شکار رہی ہے۔ سری لنکا میں ان حالیہ حملوں کے بعد احمدیہ افراد ایک مرتبہ پھر پناہ کی تلاش میں ہیں۔دریں اثنا سری لنکا کی پولیس نے بتایا ہے کہ نیگومبو کے مقامی افراد کی جانب سے بے شمار فون کالز موصول ہوئی ہیں جس میں پاکستانی شہریوں پر شبے کا اظہار کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار ہیراتھ سیسیلا کمارا کے مطابق شکایات کے پیش نظر انہیں مشتبہ افراد کے گھروں کی تلاشی لینا ہوگی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…