پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

وکلا ء ماڈل عدالتوں کیخلاف کھل کر سامنے آگئے 25 اپریل کو احتجاج کا اعلان کردیا

datetime 22  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) لوگوں کو تیزی سے انصاف کی فراہمی کے لیے قائم کی گئی ماڈل عدالتوں نے جہاں یکم اپریل سے اپنے آغاز سے ہی سیکڑوں مجرمانہ کیسز کا فیصلہ دیا وہیں وکلا برداری نے اسے انصاف میں جلدی، انصاف کو کچلنا قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ان عدالتوں کے خلاف مہم بھی شروع کردی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تیز ٹرائل کے لیے قائم 116 ماڈل عدالتوں سے 16 دنوں میں قتل اور منشیات کے ایک ہزار 7سو 69 کیسز کا فیصلہ کیا۔تاہم وکلا برادری کی جانب سے ان اعداد و شمار کو کاسمیٹک قرار دیتے ہوئے دھمکی دی گئی کہ اگر حکومت نے 25 اپریل تک ماڈل عدالتوں پر اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ادھر فوری انصاف کی منتقلی (ای جے آئی)کے نگرانی اور تشخیصی سیل کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 36، سندھ اور خیبرپختونخوا میں 26، 26، بلوچستان میں 24 اور اسلام آباد میں 2 ماڈل عدالتوں نے یکم سے 18 اپریل تک ایک ہزار 7 سو 69 کیسز کا فیصلہ کیا، جس میں 721 قتل اور ایک ہزار 48 منشیات کے مقدمات تھے۔نگرانی سیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان مقدمات میں سزاؤں کی شرح تقریبا 50 فیصد تھی، تاہم جہاں تک اسلام آباد کی ماڈل عدالتوں کی کارکردگی کی بات ہے تو انہوں نے اب تک 16 دنوں میں 20 قتل اور 24 منشیات کے مقدمات کا فیصلہ کیا۔یہ مقدمات گزشتہ 5 سے 6 برس میں ٹرائل عدالتوں میں دائر کیے گئے تھے، جنہیں ہائی کورٹ کی جانب سے متعلقہ سیشن ججز کو کیسز کی منتقلی کے اختیار ملنے کے بعد ماڈل عدالتوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔اسلام آباد کے عدالتی حلقے میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ ماڈل عدالتوں میں منتقل ہونے والے زیادہ تر مقدمات متعلقہ ٹرائل عدالتوں میں مکمل ہونے کے قریب تھے، لہذا یہی وجہ ہے کہ 16 کام کے دنوں میں 20 قتل اور 24 منشیات کے مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔تاہم دوسری جانب وکلا باڈیز کی جانب سے ماڈل عدالتوں کے لیے مقررہ وقت کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل وکلا کی سب سے بڑی ریگولیٹری باڈی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…