پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

شہبازشریف سے رابطوں کی خبریں،شریف برادران کی جانب سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر مل کر آگے بڑھنے کی مبینہ پیشکش ، چوہدری شجاعت نے جواب دے دیا

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

لندن/لاہور(این این آئی ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے شہبازشریف سے مبینہ رابطوں اور شریف برادران کی جانب سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر مل کر آگے بڑھنے کی پیشکش کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری طرف سے کوئی پیشکش نہیں ہوئی،

شہبازشریف سے نہ تو رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ نوازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد اجلاس میں جب ان کی خوشامد کی جا رہی تھی تو میں نے کھڑے ہو کر ان کو کہا تھا کہ وہ منافقت سے پرہیز کریں، چاپلوسوں سے دور رہیں ۔ان میں میں نہیں آنی چاہئے لیکن افسوس ہے کہ تینوں میں سے میرے کسی مشورہ پر عمل نہیں کیا گیا اور آج وہ یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افہام و تفہیم کی باتیں کرنے سے پہلے شہبازشریف اور ان کے بھائی نوازشریف کو بھی چاہئے کہ وہ نوازشریف کو دئیے گئے میرے پہلے مشورہ منافقت سے پرہیز پر عمل کریں۔ چودھری شجاعت حسین نے عمران خان کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ وہ نیک نیتی سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں، ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں اور ملک کو درپیش اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے سب کو ان کا ساتھ دینا چاہئے۔  پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے شہبازشریف سے مبینہ رابطوں اور شریف برادران کی جانب سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر مل کر آگے بڑھنے کی پیشکش کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری طرف سے کوئی پیشکش نہیں ہوئی، شہبازشریف سے نہ تو رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…