پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

خاتون مانیٹرنگ آفیسر کا سینئر سائنس ٹیچر کے ساتھ ہتک آمیز رویہ سمیرا عنبرین کا ردعمل آگیا ، جب وہ کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے بچے کو کیا کرتے دیکھا جس پروہ خاموش نہ رہ سکیں ، اندر کی کہانی بتا دی

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

شخوپورہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر شیخوپورہ سمیرا عنبرین کا گورنمنٹ ھائر سیکنڈری سکول فاروق آباد کے OT ٹیچر طاہر محمود کے حوالے سے موقف سامنے آگیا ۔تفصیلات کے مطابق شیخوپور ہ کی مانیٹرنگ آفیسر سمیرا عنبرین نے بیان جاری کیا گیا ہے کہ گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول فاروق آباد کے OTٹیچر طاہر محمود ان کیخلاف ایک پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم ہمیشہ سرپرائز وزٹ کرتی ہے جس کا کسی سکول ہیڈ یا سکول ٹیچر کو انفارمیشن نہیں ہوتی ۔ہم نے جب گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول کا وذت کیا تو اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا ۔وزٹ کے دوران جب میں آٹھویں کلاس گئی تو دیکھا کہ ٹیچر بیٹھے ہوئے اور ان کے قدموں کے درمیان طالب علم بیٹھا ہوا جس کے اپنے پائوں ننگے تھے اور وہ ٹیچر کے شوز پالش کرنے میں مصروف تھا ۔ میں نے اس بچے کو اپنے پاس بلا لیا ۔ جب میں نے اس بچے اور ٹیچر کو پرنسپل آفس بلایا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ بچے بھٹے کے مزدور کا بچہ ہے اس لیے یہ کام اس بچے کو دیا گیا جبکہ باقی کلاس پڑھنے میں مصروف تھی ۔ اس بچے کو پڑھانے کی بجائے جوتے صاف کرنے پر لگایا ہوا تھا ۔ سمیرا عنبرین کا مزید کہنا تھا کہ اس سکول ٹیچر نے ڈرائیور کیساتھ بھی غلط زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں دیکھ لوں گا ۔ میں نے اس کے بارے میں سی ای او ایجوکیشن کو بھی انفارم کر دیا اور کنسرٹ ڈی ای او کو بھی اس معاملے کے بارے میں انفارم کر دیاتھا ۔ مانیٹرنگ آفیسر سمیرا عنبرین نے مزید بتایا کہ میں نے اس بچے اسے بیان لکھوایا اور پرنسپل نوٹس لیا اور انہوں نے بھی اس پر سخت ایکشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ جبکہ باقی کلاس کے بچوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو پتہ چلا کہ ان سے دو ٹائم صفائی کروائی جاتی ایک بریک سے پہلے اور ایک بریک کے بعد ۔ بچوں کا کہنا تھا کہ

یہ ہماری ڈیوٹی میں شامل ہے کہ سب بچے مل کر صفائی کریں گے ۔ ایسے معاملا ت میں یہ ٹیچر طاہر محمود صاحب اکثر پائے گئے ان کے بارے میں کافی شکایات ہیں ۔جب بھی کوئی آفسر ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر مختلف کہانیاں بنا کر پیش کرتا رہتا ہے ۔ دریں اثنا گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول فاروق آباد میں سینئر ٹیچر کیساتھ طلبا کے سامنے ہتک آمیز سلوک ، ٹیچر روپڑے ۔

تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول فاروق آباد میں سینئرسائنس ٹیچر طاہر محمودنے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کیساتھ مانیٹرنگ آفیسر ڈی ایم او سمیرا عنبرین نے طلبا کے سامنے ہتک آمیز سلوک کرتے ہوئے جوتے تک ا تروا دیئے ۔ سینئر ٹیچر مانیٹرنگ آفیسر کے اس رویہ پر طلبا کے سامنے روپڑے ۔ کا کہنا تھا کہ

میں 24سال سے ملک و قوم کی خدمت میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں اور ایک خاتون آفیسر نے ایک پل میں سب پر آکر پانی پھیر دیا ،میرے جوتے اتروا دیئے اور 80طلبا کے سامنے مجھے جوتا مارا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈی ایم او سمیرا عنبرین کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ بہت بڑی آفسر ہے اور وہ کچھ بھی کر سکتی ہے اس کے آگے پیچھے بہت لوگ ہیں ۔ سینئر ٹیچر طاہر محمودکی

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے جس پر انتظامیہ نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول فاروق آباد کے سینئر ٹیچر طاہر محمودپرداد رسی کی بجائے دبائو ڈالنا شروع کر دیا ہے ۔ جب سی ای او ایجوکیشن تحقیقات کیلئے سکول پہنچے تو استاتذہ کی خاتون آفسر کیخلاف شکایت پر وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے جس کے بعد تمام ٹیچرز نے ننگے پائوں طلبا کو پڑھانے کا اعلان کر دیا اور کہا گیا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملتا ہم ننگے پائوں طلبا کو پڑھائیں گے اور یہ سلسلہ انصاف ملنے تک جاری رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…