پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وزراء کی خفیہ انکوائری،کابینہ کے آخری دو اجلاسوں میں وفاقی وزراء کی اسد عمر سے کس بات پر گرما گرمی ہوئی؟عامر کیانی اور غلام سرور سے کیا غلطی ہوئی؟سب سامنے آگیا

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)محکمانہ کارکردگی، خفیہ رپورٹس، مانیٹرنگ اور عوامی رائے اسد عمر کے استعفے اور کابینہ میں رد و بدل کا سبب بنی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض وزراء کی کارکردگی پر وزیر اعظم عمران خان سخت نالاں تھے اور انہوں نے گزشتہ ماہ ان وزراء کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان متعدد بار اسد عمر سے مہنگائی زیادہ ہونے کا شکوہ کرتے رہے،

اسد عمر سے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ اسد آپ کی پالیسیاں غریبوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، تاہم اسد عمر کی حالات بہتر ہونے کی تسلیاں بھی وزیر اعظم کو مطمئن نہ کر سکیں۔ذرائع کے مطابق کابینہ کے آخری دو اجلاسوں میں متعدد وفاقی وزراء کی بھی اسد عمر سے گرما گرمی ہوئی جبکہ اضافی گیس کے بلوں پر سخت دباؤ کے باعث وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کو بھی تبدیل کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر وزیر اعظم عمران خان نے عامر کیانی کو ناراضی کا پیغام پہنچایا، اسی طرح سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی اختلافات کی زد میں آئے۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی پی ٹی وی پر تنقید اور ملازمین کے مظاہرے میں آمد پارٹی قیادت کو ناگوار گزری، وزیر اطلاعات کو سینئر پارٹی رہنماؤں پر تنقید بھی مہنگی پڑی، البتہ فواد چوہدری کو ان کی خواہش اور مرضی کے مطابق نئی وزارت دی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ اعظم سواتی کی کابینہ میں واپسی کا فیصلہ بھی ایک ماہ پہلے کر لیا گیا تھا، فواد چوہدری کو نئی وزارت دینے کیلئے اعظم سواتی کوپارلیمانی وزارت میں ایڈجسٹ کیا گیا، ادھر شہریار آفریدی بھی اختیارات کے باوجود متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات کی ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ماہ پہلے کرلیا تھا، فردوس عاشق اعوان کو وزیراعظم نے گزشتہ روز فون پر نئی ذمہ داریاں دینے کی خود اطلاع دی۔ذرائع نے بتایا کہ اعظم سواتی، اعجاز شاہ اور حفیظ شیخ کو وزارتیں دینے کا فیصلہ مشاورت کے بعد کیا گیا جبکہ ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو ان کی مہارت کی بنیاد پر وزارتِ صحت میں بطور معاون آزمانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…