پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا قاتلوں کے ساتھ ہے یا شہداء کیساتھ ؟ بلاول بھٹو نے گیند حکومتی کورٹ میں ڈال دی

datetime 16  اپریل‬‮  2019 |

کوئٹہ( آن لائن )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قاتلوں کے ساتھ ہے یا شہدا کے ساتھ، آپ دونوں کیساتھ نہیں چل سکتے،جب میں کالعدم تنظیموں کیخلاف نیشنل اسمبلی میں بات کرتا ہوں تو مجھے ملک دشمن کہا جاتا ہے،جب تک حکومت کی دوغلی پالیسی چلتی رہے گی مظلوموں کو انصاف نہیں ملے گا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اے پی ایس کے واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا لیکن اس پرآج عمل درآمد نہیں ہوسکا،میں بھی شہید کا بیٹا ہوں، میری جدو جہد پورے ملک کو انتہاپسندی سے پاک کرنے کیلئے ہوگی جب میں کالعدم تنظیموں کیخلاف نیشنل اسمبلی میں بات کرتا ہوں تو مجھے ملک دشمن کہا جاتا ہے، ہم ملک دشمن ہیں یا وہ جو کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم کر رہے ہیں، مین اسٹریم کرنا ہے تو مظلوموں اور ہزار برادری کو مین اسٹریم کریں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے ہزارا برادی کے کئی لوگ شہید ہوئے ہیں۔ اتنے لوگوں کا خون بہنے کے باوجود حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ کس کے ساتھ کھڑے ہونا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت کی دوغلی پالیسی چلتی رہے گی مظلوموں کو انصاف نہیں ملے گا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم کب تک انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے رہیں گے، افسوسناک بات ہے کہ وزیرداخلہ ایک دن کہتا ہے کہ ہم شہیدوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں قاتلوں کے بارے میں کہتے ہیں کوئی ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ کوئٹہ دھماکے میں ہزارہ ا برادری سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ میں بھی شہید کا بیٹا ہوں، میری جدو جہد پورے ملک کو انتہاپسندی سے پاک کرنے کیلئے ہوگی، ہر بار ہمارے لیے اور کوئٹہ کیلئے کربلا بپا کیا گیا ہے، عوام کے تحفظ کیلئے ہمیں جس ظالم ، دہشت گرد اور انتہاپسند سے بھی ٹکرانا پڑے سب سے آگے پاکستان پیپلزپارٹی ہوگی۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹوزرداری نے مستونگ میں ٹریفک حادثے میں ہلاکتوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پارٹی کے مقامی عہدیداران و کارکنان متاثرہ خاندانوں سے ہر ممکن تعاون کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…