جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

موجودہ حکومت کٹھ پتلی ہے ہم اسے نہیں مانتے،مہنگائی بے قابو ،ملکی معیشت تباہ ہوگئی،،مولانا فضل الرحمان نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کٹھ پتلی ہے ہم اسے نہیں مانتے،حکومت گرانے کیلئے ملک بھر میں تحریک چلائیں گے، نیب سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا ایک ادارہ ہے، ہم احتساب سے نہیں ڈرتے، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں، ستر سال گزرنے کے باوجود بھی علماء کی سیاست یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔

جے یوآئی کے زیراہتمام پشاورمیں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کٹھ پتلی حکومت کو ماننے کے لئے تیار نہیں تحریک چلا کر اس کا خاتمہ کرینگے،جن ممالک نے بھیک دیا آج وہ کشکول بھرنے کو تیار نہیں،مہنگائی بے قابو ہوگئی ہے اور ملکی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔موجودہ حکومت کا انداز ملکی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔حکومت اپنے آپ گرگئی تو ملکی استحکام کو خطرہ ہوسکتا ہے اسلئے ہم گرائیں گے۔انہوں نے گزشتہ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مکمل دھاندلی ہوئی اور الیکشن کمیشن ناکام ہوا ،علما کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کیلئے پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں مولانافضل الرحمان کاکہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں، ستر سال گزرنے کے باوجود بھی علماء کی سیاست یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے، علماء کیخلاف ایسے تاثرات میں ملکی اسٹبلشمنٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، انگریز دور میں علماء کے خلاف تعصب پھیلایا گیا آج بھی اس کے اثرات موجود ہے، علماء کے خلاف تعصب ریاستی اسٹبلشمنٹ کا کام ہے، ریاستی ادارے علماء کے خلاف تعصب پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جمعیت علماء اسلام برصغیر کے تاریخ کی سب سے قدیم جماعت ہے، انکاکہنا تھا کہ بر صغیر کی سب سے قدیم سیاست جے یو آئی کی ہے ۔ پاکستان کے بیورو کریسی اور اسٹبلشمنٹ علماء و مدارس کے کرادار کو مانے کو تیار نہیں،

طبقاتی نظام تعلیم نوجوانوں کی فکر سوچ کو منتشر کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نیب سیاسی انتقام کے لئے بنایا گیا ایک ادارہ ہے،عالمی طاقتوں کی نظریں پاکستان پر ہے حکومت پر نہیں، ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے مہنگائی غروج پر پہنچ گئی ہے،روزانہ ہم پندرہ ارب قرضے لے رہے ہیں، موجودہ حکمران کٹ پتلی انہیں لایا گیا ہے، اس جماعت کو ناجائز طریقے سے ناجائز حکومت دینے کا جرم ملکی اسٹبلشمنٹ نے کیا ہے،ہم نے ملک کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا ہے، انتخابات میں بھرپور دھاندلی ہوئی ہے الیکشن کمیشن مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…