پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

مقتولین کی گاڑی روک دی گئی تھی تو فائرنگ کیوں کی گئی؟ کیا 13 سالہ لڑکی کو ایک ٹھوس عینی شاہد کو ختم کرنے کیلئے قتل کیا گیا؟ بڑے سوال کھڑے ہو گئے، افسوسناک انکشافات

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئر مین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو ٹیلی فون کیا اور ساہیوال واقعہ کی تفصیلات دریافت کیں۔ اتوار کو ہونے والے رابطے میں دونوں رہنماؤں میں واقعہ ساہیوال کی مکمل تفتیش کرنے، ذمہ داروں کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دینے پر اتفاق رائے پایا۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے سینیٹر رحمان ملک کو واقعہ ساہیوال کی مکمل تفتیش و ذمہ داروں کا تعین کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

سینیٹر رحمان ملک نے واقعے پر پنجاب حکومت کے ابتدائی اقدامات کو سراہا۔ رحمن ملک نے کہاکہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کو واقعے پر بہت افسوس ہوا ہے، واقعہ کی شفاف ترین تفتیش کی جائے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے واقعہ ساہیوال پر آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب سے جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ رحمن ملک نے کہاکہ آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب کمیٹی کو ایک ہفتے میں سانحہ ساہیوال پر جامع رپورٹ پیش کرے۔ رحمن ملک نے کہاکہ سانحہ ساہیوال کی تفتیش کرکے ذمہ داروں کا تعین کی جائے تاکہ مجرموں کو عبرت ناک سزا ملے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ آئی جی پولیس و ہوم سیکرٹری پنجاب کمیٹی کی طرف سے اٹھائے گئے 11 سوالات کے جوابات پر مشتمل رپورٹ جمع کرے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مقتولین و انکے خاندان کا مکمل پروفائل کمیٹی کو جمع کیا جائے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کیا مقتولین و خاندان کیخلاف کبھی کسی کیطرف سے کوئی ایف آئی آر درج ہوئی تھی یا نہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کیا مقتولین یا اسکے خاندان کا کسی سے کوئی دشمنی تھی یا خاندان کی اندر کوئی تنازع چل رہا تھا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ جب مقتولین نے سی ٹی ڈی پولیس کے کہنے پر روڈ سائیڈ پر گاڑی کھڑی کی تو فائرنگ کیوں کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مقتولین کی طرف سے کسی مزاحمت و جوابی فائرنگ کے بغیر کیسے پولیس نے چار افراد کو قتل کیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کیا 13 سالہ لڑکی کو اسلئے قتل کیا گیا کہ قتل کے عینی شاہد کو ختم کی جائے؟

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کیا مقتولین کیخلاف کوئی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا رپورٹ تھا اور اگر تھا تو کیاتھا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کیا مقتولین یا خاندان کا کسی بااثر شخصیت کیساتھ کوئی تنازع یا دشمنی تو نہیں چل رہا تھا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کیا پولیس مقابلہ قانون کے مطابق کسی سینیر پولیس افسر کے زیرنگرانی ہوا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ پولیس مقابلے کے احکامات کیا کسی سینیر پولیس افسر نے دیئے تھے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ پولیس مقابلے دن دیہاڑے مین ہائی وے روڈ پر کیسے ہوا کرتے ہیں جسکو دنیا دیکھتی رہی۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ پیمرا کمیٹی کو مختلف ٹی وی پر چلنے والے سارے فوٹیجیز فراہم کرے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کمیٹی پنجاب حکومت کیطرف سے پیش کردہ رپورٹ کا باقاعدہ تفتیش و معائنہ کریگی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ واقعہ ساہیوال انتہائی افسوسناک، دردناک اور قابل مزمت ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ واقعہ ساہیوال سے عوام میں خوف و حراس اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ کمیٹی اس پورے واقعہ کا مکمل و قانونی جائزہ لے گی اور لائحہ عمل تیار کریگی کہ آیندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ اسطرح کے پولیس مقابلے کرنا اور لوگوں کو مارنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والوں کیلئے ایس او پی ہے جس پر عمل در آمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…