اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

شہباز شریف مفاہمت یا این آر او نہیں چاہتے ، چوہدری نثار کی پارٹی میں واپسی کب ہوگی؟ خواجہ آصف نے بڑی خبر سنادی

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ معاشی بحران سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے، چوہدری نثار کی پارٹی میں واپسی کا فیصلہ قیادت کریگی، ن لیگ حکومت کے خلاف دھرنے میں بعض افراد انفرادی طورپرملوث تھے، اپوزیشن کا آئین کے تقدس پر اتفاق کرنا ووٹ کو عزت دینے کی بات ہے۔

ایک انٹرویومیں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ن لیگ حکومت کے خلاف دھرنے میں بعض افراد انفرادی طورپرملوث تھے، ان افراد نے عمران خان حکومت کے انتخاب میں بھی کردارادا کیا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف اور شاہد خاقان کے دور حکومت میں دفاع و خارجہ پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ سب کا حکومت کا شوق پورا ہو جانا چاہیے،عمران خان کا شوق حکومت ختم ہو تاکہ یہ دوبارہ کنٹینر پر نہ چڑھیں۔خواجہ آصف نے کہاکہ نواز شریف کی سیاست تب ختم نہیں ہوئی جب 14 اراکین تھے،آج تو 84 ہیں۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف اور شاہد خاقان کے دور حکومت میں دفاع یا خارجہ پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں ہوا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جو میز پر حل نہ ہوا ہو۔انہوں نے کہاکہ معاشی بحران سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے،ہمارے بعض خیرخواہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا کہتے ہیں۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ چھپائی گئی جائیدادوں کے ذریعے آج کل پاناما کی ماں سامنے آرہی ہے،نواز شریف کے پاناما سے تعلق ثابت نا ہونے کے میرے بیان کی اب عدالت نے بھی تائید کی۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام خطرے سے دوچار ہے،جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے،شہباز شریف مفاہمت یا این آر او نہیں چاہتے ، چوہدری نثار کی پارٹی میں واپسی کا فیصلہ قیادت کریگی۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ میثاق جمہوریت سے پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں جوتلخیاں تھیں آج توکچھ بھی نہیں، اپوزیشن کا آئین کے تقدس پر اتفاق کرنا ووٹ کو عزت دینے کی بات ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…