ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے ، ن لیگ نے ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کیلئے حکومت کو بڑی پیشکش کردی

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی)سابق وزیر خارجہ لیگی رہنما خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ ہمارے دور میں نیب قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے تھی ،ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کر نے کی ضرورت ہے ،حکومت کو وقت دینا چاہیے ،جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے ، شہبازشریف مفاہمت یااین آر اونہیں چاہتے،نوازشریف کی سیاست تب ختم نہیں ہوئی جب 14ارکان تھے،آج تو84ہیں۔ ایک انٹرویومیں سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہاکہ میں کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہوں مخالف کو حق ہے کہ وہ ہر قسم کے ہتھکنڈے آزمائے۔

انہوںے کہاکہ ہمارے دور میں نیب قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے تھی۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت بھی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت دینے کی بات آئین کی بالادستی کی بات ہوتی ہے۔وزیراعظم دو مرتبہ اسمبلی میں آئے ہیں جبکہ وزیر خزانہ کی بھی اسی طرح غیر حاضری ہے۔انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہیں اور اسمبلی کے پیسے ضائع کرتے ہیں ۔خو د انہوں نے دھرنوں کے دوران تنخواہیں وصول کی ہوئی ہیں۔ساری اسمبلی نے سیلاب زرگان کو چندہ دیا۔چوہدری نثار کی پارٹی میں واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہماری قیادت کا فیصلہ ہے میری تو اتنی اوقات نہیں میرے تو پر جلتے ہیں ان معاملات میں دخل دیتے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی خاندان کے بچوں کا مستقبل بھی سیاسی ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر صدارتی نظام لے کر آتے ہیں تو آئین کی شکل و صورت تبدیل کرنی پڑے گی، انہوں نے کہا کہ حکومت کو وقت دینا چاہیے ، ہمار ے بعض خیرخواہ احتجاجی تحریک شروع کرنیکاکہتے ہیں،سب کاحکومت کاشوق پوراہو جاناچاہیے،عمران خان کاشوق ختم ہوتاکہ یہ دوبارہ کنٹینر پرناچڑھیں،جمہوری نظام خطرے سے دوچارہے،جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے پاناماسے تعلق ثابت ناہونے کے میرے بیان کی اب عدالت نے بھی تائید کی،

چھپائی گئی جائیدادوں کے ذریعے آج کل پاناماکی ماں سا منے آرہی ہے انہوں نے کہا کہ شہبازشریف مفاہمت یااین آر اونہیں چاہتے،نوازشریف کی سیاست تب ختم نہیں ہوئی جب 14ارکان تھے،آج تو84ہیں،میثاق جمہوریت سے پہلے ن لیگ اورپیپلزپارٹی میں جوتلخیاں تھیں آج توکچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اورشاہدخاقان کے دورحکومت میں دفاع یاخارجہ پالیسی پرکوئی اختلاف نہیں ہوا،پنڈی اوراسلام آباد میں کوئی ایسامسئلہ نہیں تھاجومیزپر حل نہ ہواہو ،ن لیگ حکومت کیخلاف دھر نے میں بعض افرادانفرادی طورپرملوث تھے۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…