جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعظم عمران خان کوانکے نالائق وزیروں نے ڈبو دیا!! پی ٹی آئی حکومت کا انجام قریب ، عوامی تحریک کب چلنے والی ہے؟ کپتان کے بڑے حمایتی ہارون الرشید نے خطرناک پیش گوئی کر دی

datetime 20  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہارون الرشید نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کی پیش گوئی کر دی ہے۔ ہارون الرشید اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’یہ انتخابات نہیں ہیں‘‘الیکشن سے قبل ایک ممتاز غیر سیاسی شخصیت سے اس ناچیز نے کہا تھا، جن کی معلومات ہم اخبار نویسوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

نون ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اکتائے ہوئے عوام اور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کو قبول کر لیا۔ اب بھی اس کیلئے بڑی مہلت موجود ہے۔ ان کی واپسی کا آرزومند کوئی نہیں، دونوں ہاتھوں سے سرکاری خزانہ جو لوٹتے رہے۔ قومی دفاع کے باب میں، جن پر انحصار نہ کیا جا سکتا تھا۔ پیپلزپارٹی ایک صوبے تک سمٹ گئی، جہاں اب بھی ظلم اور لوٹ مار کا دور دورہ ہے۔ اس کی مہلت چنانچہ تمام ہو گئی ۔ شہباز شریف کے سوا پورا خاندان یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ خوفناک دہشتگردی اور سرحدوں پہ یلغار کے ہنگام، قوم اپنی محافظ فوج کو رسوا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ با ایں ہمہ کار حکمرانی میں پی ٹی آئی بالکل بانجھ ثابت ہوئی۔ آدمی ششدر رہر جاتا ہے، جب شہریار آفریدی ایسے وزرا کو ایسی احمقانہ بات کرتے ہوئے سنتا ہے کہ اسلام آباد کی 75فیصد بچیاں ہیروئن کی عادی ہیں۔ اساتذہ، والدین، میڈیا، پولیس، ایف آئی اے، ساری دنیا کیا اندھی ہے، اللہ نے آنکھیں صرف شہریار آفریدی کو عطا کی ہیں؟ کیا یہ وہی صاحب نہیں جو راولپنڈی کے ایک تھانے میں گھس کر حوالاتیوں کو آزاد کرنے پر مصر تھے؟نئے پاکستان میں معاشی پالیسیوں پہ اتنی بار بات کی ہے کہ تکرار سے کوفت ہونے لگی ہے۔ ہارون الرشید مزید لکھتے ہیں کہ خاکسار کا اندازہ بھی یہی ہے کہ عمران خان کیلئے سال، ڈیڑھ سال کی مہلت ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری سے اکتائے لوگ پھر شاید برہم ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔ کامیابی کی کلید اس کے سوا کچھ نہیں کہ حقائق کو تسلیم کیا جائے۔ ان سے مطابقت پیدا کی جائے اور ان کی روشنی میں فیصلے صادر کئے جائیں۔ چابی کے بغیر قفل نہیں کھلا کرتے۔ حضورِ والا، حضورِ والا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…